لاہور جم خانہ کلب کا سالانہ کرایہ 5 ہزار روپے مگر جگہ کی مالیت 76 ارب سے بھی زیادہ، یہ معاملہ کیا ہے؟

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مئی 2024 میں پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا پیش کیے جانے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ لاہور جم خانہ کلب ماہانہ صرف 417 روپے کرایہ ادا کررہا ہے۔ اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے معاملے کی تصدیق کی ہدایت کی، جبکہ بعد ازاں اس کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی نمبر 6 تشکیل دی گئی۔

ستمبر 2024 کے بعد کمیٹی کے اجلاسوں میں مسلسل وقفے آتے رہے، جس پر اسمبلی اراکین نے تنقید کی۔ جنوری 2025 میں بھی حکومت اور اپوزیشن اس معاملے پر متفق نظر آئیں اور کلب سے بقایا جات کی وصولی یا مارکیٹ ریٹ کے مطابق نئی لیز دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: لاہور جمخانہ کی لیز اور کرایہ داری کا معاملہ، تعمیرات کے نقشے غائب ہونے کا انکشاف، کمیٹی بنانے کا فیصلہ

مئی 2023 میں متعارف کرائی گئی نئی جم خانہ پالیسی کے تحت دیگر کلبوں سے مارکیٹ ریٹ کے 10 فیصد کے برابر کرایہ وصول کیا جاتا ہے، تاہم لاہور جم خانہ کو اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے کیونکہ اس کی لیز پرانی ہے۔

اس کے علاوہ باغ جناح میں واقع 6 ایکڑ پر مشتمل کرکٹ گراؤنڈ بھی سالانہ محض 900 روپے کرایے پر 2069 تک لیز پر دیا گیا ہے۔

یہ لیز 1996 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب سردار محمد عارف نکئی کی زبانی ہدایت پر طے کی گئی تھی۔ بورڈ آف ریونیو کے ممبر کالونیز نے کمیٹی کو بتایا کہ لیز طے کرتے وقت مناسب قدر کا تعین کرنے کے طریقہ کار اور قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سابقہ لیز کی مدت ختم ہونے سے 4 سال قبل ہی اس کی تجدید کردی گئی تھی، جبکہ نئی لیز 2000 سے 2050 تک کے لیے مؤثر ہے۔

معاہدے کے تحت کلب کو عوامی شعبے میں سہولیات فراہم کرنے کا بھی پابند بنایا گیا تھا، تاہم کلب کی رکنیت زیادہ تر اعلیٰ سرکاری افسران اور بیوروکریسی تک محدود رہی۔

جم خانہ کلب کو صوبائی دارالحکومت کی قیمتی سرکاری اراضی پر محض 5 ہزار روپے سالانہ کرایے پر لیز دینے کا معاملہ پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 کے زیر بحث آیا ہے۔

کمیٹی کے حالیہ اجلاسوں میں انکشاف ہوا کہ لاہور جم خانہ کلب کے قبضے میں تقریباً 112 سے 117 ایکڑ اراضی ہے، جس کی تخمینی مارکیٹ مالیت 76 ارب سے 218 ارب روپے کے درمیان بتائی گئی ہے۔ اس کے برعکس کلب سالانہ محض 5 ہزار روپے کرایہ ادا کررہا ہے، جو تقریباً 417 روپے ماہانہ یا فی ایکڑ سالانہ صرف 44 روپے بنتا ہے۔

اسپشل کمیٹی کی کارروائی

20 اور 21 اکتوبر 2026 کو رکن پنجاب اسمبلی سمیع اللہ خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاسوں میں کمیٹی کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ بورڈ آف ریونیو نے کلب کا کرایہ کس بنیاد پر مقرر کیا ہے؟

انہوں نے کہاکہ یا تو کرایے کی نئی شرح طے کی جائے گی یا پھر سالانہ 5 ہزار روپے بھی معاف کرکے پوری اراضی کلب کے حوالے کردی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ اشرافیہ اس معمولی کرایے کو بھی مناسب سمجھتی ہے۔

کمیٹی کے اجلاسوں میں لاہور جم خانہ کلب کے چیئرمین سلمان صدیق نے خود تسلیم کیاکہ کلب کی جانب سے ادا کیا جانے والا موجودہ کرایہ ناکافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کلب نے رواں سال 19 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا ہے اور اگر کمیٹی کرایہ بڑھانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اضافی رقم بھی ادا کی جائے گی۔

سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ کلب کی موجودہ مالی صورتحال 1990 کی دہائی کے مقابلے میں بہتر ہے، اس لیے اسے کم از کم ایک کروڑ روپے سالانہ کرایہ ادا کرنا چاہیے۔

کمیٹی نے کلب کے چیئرمین کے اس اعتراف کو کئی دہائیوں سے جاری حکومتی نگرانی کی ناکامی قرار دیا۔ کمیٹی اراکین نے اس امتیازی سلوک پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک جانب تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران عام دکانداروں اور چھوٹے تاجروں سے سرکاری اراضی واگزار کرائی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب لاہور جم خانہ کلب کو غیر معمولی مراعات حاصل ہیں۔

کمیٹی نے بورڈ آف ریونیو، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کو تمام متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی سربراہی میں ایک حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں بورڈ آف ریونیو، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، محکمہ قانون، محکمہ زراعت اور ڈپٹی کمشنر کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی کو 10 دن کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ لاہور جم خانہ کلب کے ریسٹورنٹس اور دکانوں سے متعلق ٹیکس اور آڈٹ کے معاملات، تعمیرات کی منظوریوں اور سرکاری گرانٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے کلب کے کمرشل آڈٹ کا معاملہ عدالتوں میں زیر التوا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور جمخانہ کی 5 ہزار روپے ماہانہ لیز کا معاملہ 2 سال بعد پنجاب اسمبلی میں زیر بحث، 52 ارب روپے کرایے کا مطالبہ

کمیٹی اس وقت مزید ریکارڈ کی جانچ پڑتال، لیز کے قانونی جواز کا جائزہ لینے اور عوامی مفاد میں سفارشات مرتب کرنے پر کام کررہی ہے۔ کمیٹی اراکین نے مذکورہ اراضی کو عوامی پارک یا دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp