امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر نے واشنگٹن ڈی سی میں اپنی رہائش گاہ پر وفاقی ایجنٹس کی تلاشی کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
الہان عمر نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ 10 برس سے انہیں بے بنیاد الزامات اور کردار کشی کی مہم کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی نفرت انگیز تقریر نے حملے کو بڑھاوا دیا، الہان عمر کا ٹرمپ پر براہ راست الزام
ان کے مطابق رہائش گاہ کی تلاشی سیاسی دباؤ ڈالنے کی مہم میں ایک نئی شدت ہے، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے خاموش نہیں ہوں گی۔
امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے عدالتی وارنٹ کے تحت واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تلاشی لی۔
Ilhan Omar
Federal agents searched her home this morning based on a search warrant affidavit.
Ilhan is from Somalia and serves as a federal representative. She said she came here when she was 12 and became a citizen at 17.
We shall see.
Ilhan may have immigration issues.… pic.twitter.com/vTwHZ81XQO
— Jennifer Coffindaffer (@CoffindafferFBI) October 12, 2026
ترجمان کے مطابق یہ کارروائی ایک جاری وفاقی فوجداری تحقیقات کا حصہ ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
الہان عمر کے دفتر نے کارروائی کو اختیارات کا سنگین ناجائز استعمال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی رکن نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔
مزید پڑھیں: امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار
یہ واضح نہیں ہوسکا کہ تلاشی کے وقت وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود تھیں یا نہیں۔
تحقیقات کے ایک حصے میں الہان عمر کے امیگریشن کاغذات کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے، جو مبینہ طور پر ان کے والد نے ان کے بچپن میں مکمل کیے تھے۔
The Office of Congresswoman Omar released the following statement:
“This raid by Trump’s DHS is an outrageous abuse of power and an unprecedented escalation in the weaponization of federal law enforcement to target political enemies. For a decade, Donald Trump has relentlessly…
— Rep. Ilhan Omar (@Ilhan) October 12, 2026
الہان عمر نے 2000 میں، 17 برس کی عمر میں امریکی شہریت حاصل کی تھی، حکام نے تاحال الزامات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
الہان عمر کے امیگریشن ریکارڈ پہلے بھی سیاسی بحث کا موضوع بن چکے ہیں، رواں سال ریپبلکن رکن کانگریس نینسی میس نے ان سے متعلق ریکارڈ طلب کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ایوانِ نمائندگان نے الہان عمر کے خلاف سرزنش کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مارچ میں ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران بھی الہان عمر پر امیگریشن فراڈ کا الزام عائد کیا تھا، تاہم اس وقت کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں وفاقی ایجنٹس کی کارروائی سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محکمہ انصاف کا معاملہ ہے۔
انہوں نے الہان عمر پر تنقید بھی کی، تاہم تحقیقات کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے اور الزامات ثابت نہیں ہوئے۔














