امریکی سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ اسٹرائیک کے مطابق جنوبی کوریا کے مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے والے حالیہ سائبر حملوں میں چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں مقیم 26 سالہ شخص کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، جس نے حملوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز استعمال کیے۔
کراؤڈ اسٹرائیک نے بدھ کو جاری رپورٹ میں بتایا کہ کمپنی نے اے آئی کوڈنگ ٹولز کے استعمال کے دوران سامنے آنے والی معلومات اور حملوں سے منسلک تکنیکی ڈھانچے کا تجزیہ کرتے ہوئے مشتبہ حملہ آور سے متعلق ذاتی تفصیلات حاصل کیں۔
کمپنی کے مطابق حملہ آور نے چین میں تیار کردہ اوپن سورس اے آئی ایجنٹ ’آرٹیکس‘ کے ساتھ ساتھ ’کلاڈ‘ جیسے بڑے زبان ماڈلز بھی استعمال کیے۔
رپورٹ کے مطابق مشتبہ شخص نے ’کلاڈ‘ سے جنوبی کوریا کے چوری شدہ ڈیٹا کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہونے والے ٹیلی گرام گروپس اور سائبر مجرموں کے ڈیٹا فروخت کرنے کے طریقوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ایک اور سیشن میں اس نے کلاڈ سے سکیورٹی محقق کا فرضی ریزیومے تیار کرنے کو کہا، جس میں ٹیلی گرام اکاؤنٹ، عمر، تعلیمی پس منظر اور جنوبی چین کے شہر ماؤمنگ میں رہائش سے متعلق معلومات شامل تھیں۔ کراؤڈ اسٹرائیک کے مطابق یہ معلومات ممکنہ طور پر حملہ آور کی اپنی تھیں۔
کاؤڈ اسٹرائیک نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت کسی مخصوص گروہ سے نہیں کی گئی، تاہم چینی زبان میں دی گئی ہدایات اور چین میں تیار کردہ ’آرٹیکس‘ کے استعمال کی بنیاد پر اس کے چینی زبان بولنے والے اور مالی فائدے کے لیے سرگرم ہونے کا درمیانے درجے کا امکان ہے۔
’آرٹیکس‘ ایک اوپن سورس اے آئی ایجنٹ ہے جو چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور ڈیپ سیک جیسے بیرونی اے آئی ماڈلز سے منسلک ہو کر نیٹ ورک کی کمزوریوں کی جانچ میں مدد دیتا ہے۔
جنوبی کوریا میں ستمبر کے آخر سے اب تک کم از کم 9 بینک سائبر حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
شنہان بینک کے مطابق تقریباً 25 ہزار صارفین کی ذاتی معلومات متاثر ہوئی ہیں، جبکہ کے بی کوکمِن بینک نے 119 صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اے آئی ایجنٹس کے ذریعے سائبر حملوں کے بڑھتے خطرے اور اداروں کی سائبر دفاعی صلاحیتوں پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔














