پرندے محض کھڑکی سے بھی دیکھنا یادداشت کے لیے مفید، جانیے اس مخلوق سے انسیت کے دیگر فوائد

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قدرت کے قریب وقت گزارنے اور پرندوں کی آوازوں اور حرکات پر توجہ دینے سے ذہنی سکون، یادداشت اور توجہ بہتر ہوسکتی ہے جبکہ ماہرین کے مطابق یہ سرگرمی عمر رسیدہ افراد اور ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے بھی مفید ثابت ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟

پرندوں کو دیکھنا بظاہر ایک عام سا مشغلہ محسوس ہوتا ہے لیکن نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سرگرمی دماغی صحت کے لیے بھی غیرمعمولی فوائد رکھ سکتی ہے۔ پرندوں کی مختلف اقسام کو پہچاننے، ان کی آوازوں پر توجہ دینے اور ان کی حرکات کا مشاہدہ کرنے سے دماغ کے وہ حصے متحرک ہوتے ہیں جو توجہ، بصری ادراک اور یادداشت جیسے اہم افعال انجام دیتے ہیں۔

محققین کے مطابق یہ مشغلہ دماغ کی ساخت اور فعالیت میں تبدیلیوں سے بھی وابستہ ہے اور عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں آنے والی کمی کو سست کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

برطانیہ کے علاقے ویسٹ مڈلینڈز میں ہر ہفتے عمر رسیدہ افراد کا ایک گروپ لکڑی سے بنے ایک مخصوص مشاہداتی مقام پر کئی گھنٹے گزارتا ہے۔ یہ افراد دوربینوں کی مدد سے جھیل اور اس کے اطراف میں موجود پرندوں کو دیکھتے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اس گروپ کے بیشتر افراد کو اسی دن پیش آنے والے واقعات یاد رکھنے یا عام گفتگو کو سمجھنے میں بھی دشواری ہوتی ہے لیکن جب بات پرندوں کی ہو تو ان کے چہروں پر خوشی اور جوش نمایاں ہوجاتا ہے۔ کوئی لمبی اور رنگین چونچ والے پرندے کی نشاندہی کرتا ہے تو کوئی پانی میں تیرتے پرندوں کی خوبصورتی پر بات کرتا ہے۔

اس گروپ میں 78 سالہ ہیرالڈ بھی شامل ہیں، جنہیں ماضی میں قدرتی ماحول اور کھلی فضا میں وقت گزارنا بہت پسند تھا، لیکن ڈیمنشیا کے باعث وہ رفتہ رفتہ لوگوں سے میل جول کم کرنے لگے تھے اور اکثر پریشان رہتے تھے۔ ان کی بیٹی لوسی انہیں اس گروپ میں لے کر آئیں تاکہ ماحول کی تبدیلی اور جھیل کے پُرسکون مناظر ان کے لیے بہتر ثابت ہوں۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں شدید گرمی سے متاثرہ پرندوں کی جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں تیز

ابتدا میں ہیرالڈ کچھ گھبرائے ہوئے تھے، لیکن جب کسی نے انہیں ایک رابن پرندہ دکھایا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ بعد ازاں وہ پانی میں کھیلتی بطخوں اور درختوں کے درمیان اڑتے نیلے رنگ کے چھوٹے پرندوں کو دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ ان کی بیٹی نے طویل عرصے بعد انہیں کھل کر ہنستے دیکھا۔

عمر رسیدہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے ایج یو کے کی کمیونٹی ڈیمینشیا ایڈوائزر جینی بڈنگر کے مطابق اس لمحے ہیرالڈ اپنی یادداشت یا اعتماد کی کمی کے بارے میں پریشان نہیں تھے بلکہ پوری طرح موجودہ لمحے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ان کے بقول بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے، لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہوسکتا ہے۔

ماہر پرندہ شناس افراد کے دماغ میں کیا فرق پایا گیا؟

پرندوں کو دیکھنے کے دماغ پر اثرات جاننے کے لیے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں واقع بے کرسٹ اکیڈمی فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن کے محققین نے ایک مطالعہ کیا۔ اس میں پرندوں کی شناخت میں مہارت رکھنے والے افراد اور ابتدائی سطح کے شوقین افراد کی دماغی سرگرمیوں اور ساخت کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کی قیادت کرنے والے نیورو سائنس دان ایرک وِنگ نے شرکا کے دماغ کے ایم آر آئی اسکین کا تجزیہ کیا، جب وہ مختلف پرندوں کی شناخت کررہے تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ پرندوں کی شناخت میں ماہر افراد کے دماغ کے بعض حصوں میں ابتدائی سطح کے شوقین افراد کے مقابلے میں مختلف انداز کی سرگرمی اور باہمی رابطے پائے گئے۔

یہ فرق بالخصوص دماغ کے ان حصوں میں نمایاں تھا جو توجہ مرکوز کرنے، بصری معلومات کو سمجھنے اور چیزوں کی شناخت کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جب ماہر افراد کو ایسے پرندوں کی شناخت کرنے کو کہا گیا جن سے وہ پہلے واقف نہیں تھے تو ان حصوں میں سرگرمی مزید نمایاں ہوگئی۔

محققین کے مطابق یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پرندوں کی شناخت جیسی سرگرمی دماغ میں نیوروپلاسٹیسٹی کے عمل کو متحرک کرسکتی ہے۔ نیوروپلاسٹیسٹی سے مراد دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے وہ تجربات اور سیکھنے کے نتیجے میں اپنی ساخت اور کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: عمر رسیدہ افراد پرانی یادیں مختلف انداز میں کیوں بیان کرتے ہیں؟ جانیے حیران کن وجہ

تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان منظم رابطوں میں عموماً کمی آتی ہے اور دماغی تنظیم کی کم سطح کا تعلق ذہنی صلاحیتوں میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ تاہم پرندوں کی شناخت میں مہارت رکھنے والے افراد کے دماغ کے بعض حصوں میں اسی عمر کے دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ منظم رابطے پائے گئے۔

ایرک وِنگ کے مطابق یہ ممکن ہے کہ پرندوں کی شناخت کی مہارت دماغ کی اس تنظیم کو عمر کے ساتھ برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہو۔ تاہم محققین واضح کرتے ہیں کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ دماغ میں پائے جانے والے یہ فرق پرندوں کو دیکھنے کی سرگرمی کا نتیجہ ہیں یا پہلے سے موجود خصوصیات کی وجہ سے بعض افراد اس مشغلے میں زیادہ مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔

اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم نتائج سے یہ امکان ضرور سامنے آیا ہے کہ زندگی کے ابتدائی یا درمیانی حصے میں ایسی مہارتیں سیکھنا بڑھاپے میں بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

صرف مہارت نہیں پرندوں میں دلچسپی بھی فائدہ مند ہے

تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پرندوں کو دیکھنے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ماہر ہونا ضروری نہیں۔ ان میں دلچسپی اور مشغلے سے لطف اندوز ہونا بھی ذہنی صحت کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

پولینڈ میں 388 پرندہ شناس افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ پرندوں کو دیکھنے کے شوق کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتے ہیں اور اس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، وہ ذہنی سکون اور تازگی کا احساس زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس صرف زیادہ مہارت رکھنے والے افراد میں یہ فوائد اتنے نمایاں نہیں تھے اگر ان کی دلچسپی نسبتاً کم تھی۔

جرمنی کی کیتھولک یونیورسٹی آف آئشٹٹ انگوِلسٹاٹ کی پروفیسر الزبتھ کالز نے بھی اس موضوع پر تحقیق کی کہ قدرتی ماحول اور پرندوں سے تعلق انسانی ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔

ان کی ٹیم نے جرمنی کے 65 نرسنگ ہومز میں رہنے والے افراد کے لیے عمارتوں کے باہر پرندوں کے دانے ڈالنے کے مخصوص مقامات بنائے جہاں سے رہائشی مشترکہ کمروں میں بیٹھ کر پرندوں کو دیکھ سکتے تھے۔ محققین نے ان افراد کی ذہنی صلاحیتوں، جسمانی نقل و حرکت اور مجموعی صحت کا جائزہ لیا، جبکہ عملے اور اہل خانہ سے بھی معلومات حاصل کیں۔

یہ بھی پڑھیے: جوان اور شاداب جلد کے لیے کیا کھائیں؟ جانیے ایسی غذائیں جو جھریاں کم کرتی ہیں

صرف چند ہفتوں بعد ان افراد میں مثبت تبدیلیاں نظر آنے لگیں، جبکہ ایک ماہ بعد کیے گئے جائزے میں پرندوں کو دیکھنے کی سرگرمی ان کی ذہنی و جذباتی بہتری کی اہم وضاحت بن کر سامنے آئی۔

پروفیسر الزبتھ کالز کے مطابق پرندوں کو دیکھنے میں حصہ لینے والے افراد کی ذہنی چستی بہتر ہوئی۔ وہ گفتگو کو زیادہ آسانی سے سمجھنے اور اس میں حصہ لینے لگے، اپنے اہل خانہ سے بہتر انداز میں بات چیت کرنے لگے اور پہلے دیکھے گئے پرندوں کو بھی پہچاننے اور یاد رکھنے لگے۔

ان کے مطابق نرسنگ ہومز کا عملہ ان تبدیلیوں کو سب سے پہلے محسوس کرتا تھا۔ بعض رہائشی کئی ہفتوں سے مسکرائے نہیں تھے لیکن پرندوں کو دیکھنے کی سرگرمی کے دوران ان کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ دکھائی دینے لگی۔

محققین کے مطابق یادداشت اور توجہ میں بعض بہتریاں صرف تین سے چار ہفتوں میں بھی دیکھی گئیں۔ اس تحقیق کے مثبت نتائج کے بعد جرمنی کی صحت بیمہ کمپنیوں نے ریاست باویریا کے 400 سے زائد نرسنگ ہومز میں پرندوں کے لیے دانہ ڈالنے کے مقامات اور انہیں دیکھنے کی سہولتیں قائم کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی۔

ڈیمنشیا اور فالج کے مریضوں کے لیے بھی پرندوں سے دوستی

امریکا میں بھی ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے پرندوں کو دیکھنے پر مبنی ایک خصوصی پروگرام شروع کیا گیا۔ 2013 میں ریاست کنیکٹی کٹ کے 4 نگہداشت مراکز میں شروع ہونے والے اس پروگرام کو بعد میں ٹیکساس اور کولوراڈو تک بھی وسعت دی گئی۔

مزید پڑھیں: طوطے کیا کہہ رہے ہیں؟ اے آئی جانوروں کی زبان کا راز کھولنے میں مصروف

اس پروگرام کو برڈ ٹیلز کا نام دیا گیا جس کے تحت نگہداشت مراکز میں پرندوں کے لیے دانہ ڈالنے کے مقامات بنائے گئے اور مریضوں کو مختلف پرندوں کے مصنوعی ماڈل دیے گئے جن سے پرندوں جیسی آوازیں بھی نکلتی تھیں۔ اس طرح مریضوں کو مختلف اقسام کے پرندوں سے متعارف کرایا جاتا ہے۔

اس پروگرام میں حصہ لینے والے افراد نے اسے ذہنی طور پر متحرک رکھنے والی سرگرمی قرار دیا اور بتایا کہ اس سے انہیں اپنے ماضی کی یادوں سے دوبارہ جڑنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی طرح فالج کے بعض مریضوں کے لیے بھی پرندوں کا مشاہدہ مفید ثابت ہوا ہے۔ فالج کے بعد کچھ افراد کو بولنے یا دوسروں کی بات سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے جسے طبی زبان میں افیزیا کہا جاتا ہے۔ امریکی ریاست مونٹانا کی یونیورسٹی کے ایک خصوصی پروگرام میں 2021 سے ایسے مریضوں کو الو اور دیگر پرندوں کے مشاہدے کی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا۔ اب اس پروگرام میں مختلف پرندوں کی آوازیں پہچاننے اور ان کا مشاہدہ کرنے کی رہنمائی بھی شامل ہے۔

پرندوں کو دیکھنے سے ذہن اور جذبات پر مثبت اثر کیوں پڑتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس سرگرمی کے فوائد صرف پرندوں کو دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں قدرتی ماحول سے تعلق، توجہ مرکوز کرنا، تجسس، خوشی، دوسروں سے میل جول اور جسمانی سرگرمی جیسے کئی عوامل ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندوں کی نئی اقسام دیکھنے اور ان کی شناخت کرنے کی کوشش دماغ میں تجسس پیدا کرتی ہے۔ زندگی کے درمیانی اور آخری حصے میں نئی چیزوں کو جاننے اور سیکھنے کا عمل ذہنی صلاحیتوں کو متحرک رکھنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: بھرپور صحت: ہفتے میں یہ نباتاتی غذائیں کھائیں اور دیکھیں اس کا کمال

تحقیق کی روشنی میں تجسس کا تعلق دماغ میں بعض کیمیائی مادوں، خصوصاً نورایپی نیفرین اور ڈوپامین کی سرگرمی سے بھی جوڑا جاتا ہے، جو توجہ، سیکھنے اور جذباتی کیفیت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان مادوں کے ممکنہ اثرات میں سوزش سے متعلق عمل بھی شامل ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

برطانیہ میں ڈیمنشیا کے مریضوں اور ان کی دیکھ بھال کرنے والوں پر کیے گئے ایک سروے میں پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کو دیکھنا قدرتی ماحول میں چہل قدمی کے بعد پسندیدہ ترین بیرونی سرگرمیوں میں دوسرے نمبر پر رہا۔

سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے سفر اور مختلف مقامات تک رسائی ایک بڑی رکاوٹ ہوسکتی ہے۔ تاہم گھر کی کھڑکی سے پرندوں کو دیکھنے کی سہولت رکھنے والے افراد کے لیے اس مشغلے سے لطف اندوز ہونا نسبتاً آسان ہے۔

ماہرین کے مطابق پرندوں کو دیکھنے کے لیے کسی خاص مہارت، مہنگے آلات یا طویل سفر کی ضرورت نہیں۔ گھر کے باغیچے، بالکونی یا کھڑکی سے بھی اس سرگرمی کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت

ان کا کہنا ہے کہ انسان فطرت کا حصہ ہے لیکن روزمرہ زندگی کی مصروفیات میں اکثر اس تعلق سے دور ہوجاتا ہے۔ پرندوں کو دیکھنا اور ان کی دنیا میں دلچسپی لینا اس تعلق کو دوبارہ مضبوط کرنے کا ایک آسان اور خوشگوار ذریعہ بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp