لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے، اس کے باوجود پاکستان میں معاشی بہتری کا سفر جاری ہے اور ملکی بانڈز میں یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے اور ٹیکس پالیسی بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کر رہی ہے، جبکہ معاشی ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔
#Live: Finance Minister Muhammad Aurangzeb is addressing a ceremony in Lahore @Financegovpk #News #RadioPakistan
https://t.co/jN48jjhbjn— Radio Pakistan (@RadioPakistan) October 24, 2026
وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں فرسٹ ویمن بینک اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ حکومت سرکاری قرضوں کے بہتر انتظام اور بیرونی قرضوں میں اضافہ کیے بغیر مالی معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں صرف اضافے ہی نہیں بلکہ ان کے معیار اور پائیداری کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ آئی ٹی برآمدات اور خدمات کا شعبہ ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت موسم سرما میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہدفی سبسڈی فراہم کی گئی تاکہ امداد ان افراد تک پہنچے جنہیں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:نجی شعبے کو ملکی معیشت کی قیادت کا موقع دینا ہوگا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
وزیر خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال پاکستان کی ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام اور اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔











