ایریا ریپریذنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے وائس چیئرمین اور وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک مرجان خان وزیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور حالیہ بحران کا واحد حل مذاکرات ہیں ناکہ بم اور سرحد سے ہونے والے ڈرون حملے ہیں۔
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ملک مرجان خان وزیر نے ‘افغان ڈائریز’ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی سرکاری نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ قبائلی عوام کی سچی آواز بن کر بات کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے کشیدگی کا ذمہ دار کون؟ پاکستان کا سخت مؤقف اور طالبان کی خوش فہمی
پشتو اور اردو زبان میں ملا جلا انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی خطے کے غیرت مند عوام دہشتگرد نہیں ہیں بلکہ وہ پچھلے 45 سال سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی، ڈیورنڈ لائن اور بارڈر کی بندش
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کے پیچھے ایک تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ہاتھ ہے دوسرا خراب صورت حال کی ایک وجہ ڈیورنڈ لائن، سرحدی امور، دوطرفہ تجارت، اور طورخم و چمن کی سرحدوں کی متواتر بندش بھی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب بھی پاک افغان بارڈر بند ہوتا ہے، تو سرحد کے دونوں جانب آباد ایک ہی قوم، زبان اور رشتہ داریوں سے جڑے قبائلیوں کے کاروبار، روزگار، صحت کی سہولیات، بچوں کی تعلیم اور خاندانی روابط یکسر مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ملک مرجان خان وزیر نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں اور سرحد کے دونوں طرف پشتون قوم آباد ہے، لہٰذا ان کے درمیان کوئی بھی مسلح تصادم یا کشیدگی کا فائدہ صرف بھارت اور دیگر بیرونی طاقتیں اٹھائیں گی۔
مزید پڑھیں:پاکستانی برآمدات میں 10.8 فیصد اضافہ، پہلی سہ ماہی میں چاول اور غذائی اشیا سرفہرست رہیں
انہوں نے واضح کیا کہ اگر خدانخواستہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی جنگ چھڑتی ہے تو یہ محض دو فوجوں کا آمنا سامنا نہیں ہوگا بلکہ اس کی تپش قبائلی علاقوں کے اندر بھی محسوس کی جائے گی، جس کے نتیجے میں وزیرستان کی سرزمین ایک بار پھر تباہی و بربادی کی طرف جائے گی، لوگ بے گھر ہوں گے۔
قبائلی رہنما نے موجودہ انتظامی و سیاسی خلا پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے کا صدیوں پرانا موثر قبائلی نظام اور جرگہ سسٹم مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو مقامی زعما کی بات سنی جا رہی ہے اور نہ ہی علاقے کے معتبرین اور عوام کے جذبات کو کوئی اہمیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرحد سے ڈرون حملوں اور بمباری کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد دیرپا حل ہے اور اسلام آباد اور کابل کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات میں مقامی قبائلی مشران کی شمولیت کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
قبائلی رہنما نے مزید کہا کہ وزیرستان کے عوام علاقے میں اور اپنے وطن میں مکمل اور پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ وہ اپنے گھر بار سے بے دخل ہونے والے متاثرہ خاندانوں کی باعزت اور فوری واپسی، بنیادی بنیادی ڈھانچے اور معاشی ترقی کی فراہمی اور اپنی ہی سرزمین پر بلا روک ٹوک آزادانہ نقل و حرکت چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بحرین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس فعال کرنے پر اتفاق
ملک مرجان خان نے کہا کہ قبائلی عوام کے جائز خدشات اور مسائل پر کان نہ دھرے گئے تو خدشہ ہے کہ نوجوان عسکریت پسندی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو خطے کی صورتحال ایک بار پھر 2004 سے 2014 کے اس بدترین اور خوفناک دور کی طرف لوٹ جائے گی جس کا خمیازہ پورا خطہ بھگت چکا ہے۔











