آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون ڈیانا رومک ستمبر 2026 میں پاکستان آئی تھیں۔ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھیں، چند روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آئیں اور بعد ازاں سکردو جانے کا ارادہ کیا۔
مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا کے مطابق، 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب 2 خواتین، نمرہ اور مسکان، انہیں ڈیفنس کے ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں 3 مرد، احمد تنویر، محسن اور علی زین، موجود تھے۔
بعد ازاں انہیں رائیونڈ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے فلیٹ میں لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلا کر انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیانا مبینہ زیادتی کیس: نامزد ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں توسیع
ان کا بیگ بھی چھین لیا گیا، جس میں تقریباً 2 لاکھ روپے اور موبائل فونز موجود تھے۔
بعد ازاں انہیں غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا، جہاں سے لوگوں نے پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی۔
تھانہ ڈیفنس سی میں واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں اجتماعی زیادتی، اغوا اور دیگر دفعات شامل کی گئیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بعض ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
غیر ملکی خاتون ڈیانا سے گینگ ریپ کیس کا معمہ حل | 3 ملزمان گرفتار | DIG Investigation Lahore pic.twitter.com/ivoCvpZsR8
— Investigation Police Lahore (@InvPoliceLahore) October 4, 2026
احمد تنویر کی ملکیت بتائی جانے والی سفید ہنڈائی سوناٹا بھی برآمد کر لی گئی۔ میڈیکل رپورٹ میں جنسی عمل کی تصدیق ہونے کا بتایا گیا۔
ڈیانا نے عدالت میں ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلم بند کرایا، جس میں انہوں نے 3 مردوں پر زیادتی کا واضح الزام عائد کیا، پولیس نے تفتیش آگے بڑھائی اور مقدمے کو ہائی پروفائل قرار دیا۔
اکتوبر کے اوائل میں ڈیانا کو آذربائیجان واپس بھیجنے کی کوشش کی گئی، 3 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر انہوں نے واپس جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقدمے کی پیروی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔
An Azerbaijani woman, identified as Diana, has released a video statement denying that she was sexually assaulted by Ahmed Tanveer and calling for the case against him to be dropped. pic.twitter.com/xw2ruJd1gT
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) October 23, 2026
تاہم، 4 اکتوبر کو وہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 159 کے ذریعے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ باکو روانہ ہو گئیں، بتایا گیا کہ واپسی کے سفر کا انتظام آذربائیجان کے سفارت خانے کی درخواست پر کیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر ڈیانا کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی اور نہ ہی ان کے موبائل فون چھینے تھے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے پہلے بیانات دباؤ کا نتیجہ تھے، ڈیانا نے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی، جبکہ سفارت خانے کے ذریعے بھی احمد تنویر کو بے قصور قرار دینے سے متعلق ایک دستاویز جمع کرائی گئی۔
مزید پڑھیں: لاہور: شہریوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گروہ گرفتار، نقب زن گینگ بھی دھر لیا گیا
عدالتی کارروائی کے دوران احمد تنویر نے قبل از گرفتاری عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی، 23 اکتوبر کو لاہور کی سیشن عدالت میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج رفاقت علی گوندل نے ان کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی۔
تاہم، عدالت کے باہر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اس موقع پر ان کے ساتھیوں اور پولیس کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے افراد زخمی ہوئے۔ تنویر کے وکیل نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ دیگر ملزمان پہلے ہی زیرِ حراست تھے۔
اس پیش رفت پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ زیادتی کے مقدمے میں ملزم کے امیر خاندان نے متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے عوض ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے کی پیشکش کی، حالانکہ دفعہ 164 کے تحت ان کا بیان پہلے ہی قلمبند ہو چکا تھا۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کے لیے خصوصی یونٹ بنانے کا حکم
مریم نواز نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ضمانت دینے والے جج کو رشوت دینے کی کوشش کی گئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ ایسے مقدمات پر گہری نظر رکھیں گی تاکہ کوئی بھی ملزم دولت یا اثرورسوخ کی بنیاد پر قانون سے بچ نہ سکے۔
ان کے مطابق، انصاف کبھی فروخت کے لیے نہیں ہونا چاہیے اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری نے بھی کہا کہ ریاست اس مقدمے کی پیروی جاری رکھے گی، پولیس نے بھی تفتیش میرٹ پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔








