لاہور ہائیکورٹ: جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کے لیے خصوصی یونٹ بنانے کا حکم

جمعرات 7 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائیکورٹ نے جنسی زیادتی کے مقدمات کی تفتیش کے لیے خصوصی یونٹ بنانے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم نے سیالکوٹ میں گینگ ریپ کی شکار خاتون کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے کئی کیسز ناقص تفتیش کی وجہ سے عدالتوں میں ناکام ہو جاتے ہیں، اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت کئی اضلاع میں اسپیشل یونٹ نہیں بنے، جنسی زیادتی کیسز میں دیگر فوجداری کیسز کی طرح تفتیش کی ضرورت ہے۔

2023 Lhc 4535 by Muhammad Nisar Khan Soduzai

جسٹس طارق سلیم نے فیصلے میں کہا ہے کہ اسپیشل یونٹ میں خاتون پولیس افسر کا ہونا ضروری ہے، بچوں کے کیسز میں خاتون پولیس افسر کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے کیسز میں ثبوت لیبارٹری بھیجنے میں تاخیر یا میڈیکل وقت پر نہ ہونے سے کیس کمزور ہو جاتا ہے جس کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے۔
عدالت نے ڈی پی او سیالکوٹ کی رپورٹ کی روشنی میں خاتون کی درخواست نمٹا دی۔

واضع رہے کہ سیالکوٹ کی خاتون نے گینگ ریپ کی دفعات کو زنا سے بدلنے کے پولیس کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا ورلڈ کپ: رونالڈو نے پنالٹی سے پہلے ’بسم اللہ‘ پڑھا؟ وائرل ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی

آن لائن حج رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ، 11 روز میں 2 لاکھ سے زائد افراد کی رجسٹریشن مکمل

نو منتخب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی حلف برداری کب ہوگی؟

آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات: وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

یورپ میں شدید گرمی سے ہلاکتیں 3,700 سے متجاوز، فرانس، بیلجیم اور ہالینڈ سب سے زیادہ متاثر

ویڈیو

خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو