پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے خیبرپختونخوا میں مزاحمتی سیاست کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کی طرف پیش رفت شروع کر دی ہے۔
پارٹی قیادت کی جانب سے جلسوں اور احتجاجی تحریک کے بجائے مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب علی امین گنڈاپور بھی ممکنہ سیاسی پیش رفت کی صورت میں صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے مزاحمتی سیاست پر زور دینے والی سوشل میڈیا ٹیم سے لاتعلقی کے بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے احتجاج سے انکار کیوں کیا؟
اس پیش رفت کو پارٹی کے سیاسی بیانیے میں تبدیلی اور وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک معزول رکن اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مزاحمتی سیاست سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے، اس لیے اب مذاکرات کے راستے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بھی کمزور ہے اور عمران خان سے ملاقاتوں کے بعد رہنماؤں کی جانب سے الگ الگ مؤقف سامنے آنے سے قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید بڑھا ہے۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کی جانب سے پارٹی کے اندر وسیع مشاورت کے بغیر لانگ مارچ کا اعلان بھی تنظیمی مشکلات کی ایک مثال بنا، جس کے بعد پارٹی کے اندر فیصلوں کے طریقۂ کار اور قیادت کے اختیار سے متعلق سوالات اٹھے کہ اصل میں فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے۔
مذاکرات کے ساتھ ان ہاؤس تبدیلی کی کوششیں؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے معزول ارکان اسمبلی اور موجودہ قیادت کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان رابطوں کا ایک مقصد وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے سیاسی تعطل ختم کرنے اور صوبے میں حکومت کی بحالی کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: کے پی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن یہ لوگ ابھی تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے، وزیراعظم شہباز شریف
علی امین گنڈا پور مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں خیبرپختونخوا میں ان ہاؤس تبدیلی کے ممکنہ امیدوار کے طور پر اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے رابطے کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پارٹی نے علی امین گنڈا پور کو اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کا بھی ٹاسک دیدیا ہے اگر چہ اس کی مخالفت بھی کی گئی لیکن اس کو کوئی سپورٹ نہیں ملی اور اب خیبرپختونخوا میں پی ٹی ائی قیادت مفاہمت کی سیاست سمیت پارٹی سوشل میڈیا کو نظر انداز کرنے پر متفق ہوچکی ہے۔










