شور مچاتے ڈرون شہریوں کے لیے پریشانی بن گئے، آواز کم کرنے کی نئی ٹیکنالوجی پر کام شروع

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گھروں تک سامان پہنچانے والے ڈرونز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے امریکا سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کے لیے شور کا مسئلہ پیدا کردیا ہے، جس کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کی آواز کم کرنے کے لیے نئے طریقے آزما رہی ہیں۔ ایمیزون اور والمارٹ جیسی کمپنیاں تیز رفتار ترسیل کے لیے ڈرون سروسز کو وسعت دے رہی ہیں، تاہم ان کے پروں کی مسلسل بھنبھناہٹ رہائشی علاقوں میں لوگوں کی پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے نواحی علاقے نارتھ گارلینڈ میں رہنے والی 44 سالہ ایشلے شمٹ کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے شور کے باعث انہوں نے باغیچے میں وقت گزارنا اور قریبی پارکوں میں سائیکل چلانا کم کردیا ہے۔ ان کے مطابق ڈرون کے قریب آنے، گھر کے اوپر سے گزرنے اور دور جانے تک اس کی آواز سنائی دیتی ہے، جو شدید کوفت کا باعث بنتی ہے۔

ایمیزون کی پرائم ایئر سروس امریکا کے تقریباً 500 شہروں اور قصبوں تک پھیلائی جارہی ہے، جہاں جوتوں کے ڈبے جتنی جگہ میں سما جانے والی اشیا ڈرون کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں۔ یہ سروس برطانیہ کے شہر ڈارلنگٹن اور اس کے آس پاس بھی شروع کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈرون کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور رہائشی علاقوں کے عین اوپر سے گزر سکتے ہیں، اس لیے ان کی آواز عام ٹریفک کے شور کے مقابلے میں زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ شعبے کی توسیع کے ساتھ شکایات بڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے ترکیہ میں منعقدہ عالمی فوجی ڈرون مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی

شور کم کرنے کے لیے لندن کی کمپنی گرین جیٹس نے ایسا نظام تیار کیا ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ ڈرون کی آواز میں کم از کم 2 تہائی کمی لاسکتا ہے۔ اس نظام میں گھومنے والے پروں کو ایک حفاظتی خول میں رکھا جاتا ہے، رفتار کم کی جاتی ہے اور ارتعاش سے پیدا ہونے والی آواز گھٹانے والے مواد استعمال کیے جاتے ہیں۔

امریکی کاروباری شخصیت گریگ شیرو نے بھی خاص ساخت کے مڑے ہوئے پروں پر کام کیا ہے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ شور نمایاں طور پر کم کرتے ہیں۔ ایمیزون کے مطابق اس کے نئے ڈرون پہلے کے مقابلے میں تقریباً نصف محسوس ہونے والی آواز پیدا کرتے ہیں، جبکہ والمارٹ کے لیے ڈرون فراہم کرنے والی کمپنی ونگ شور کم کرنے والے پروں اور پرواز کے راستوں میں تبدیلی پر کام کررہی ہے۔

ڈرون کی کم آواز والی ٹیکنالوجی پولیس، جنگلی حیات کے تحفظ اور فوجی مقاصد کے لیے بھی اہم سمجھی جارہی ہے، کیونکہ اس سے نگرانی کرنے والے ڈرون کا بروقت پتا چلنے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ تاہم بعض رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ ڈرون ترسیل اس وقت تک روک دی جائے جب تک شور کی شکایت کا مؤثر حل نہیں نکل آتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp