بھارت: ’ڈیٹا تحفظ قانون‘ سپریم کورٹ میں چیلنج، صحافتی آزادی متاثر ہونے کا خدشہ

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی سپریم کورٹ نے ڈیجیٹل ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق قانون کو چیلنج کرنے والی 21 خبر رساں اداروں کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

مزید پڑھیں:بھارت میں سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، ایک لاکھ افراد کے انخلا کے احکامات

بھارتی میڈیا کے مطابق ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (ڈی این پی اے) نے ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ کے قانون 2023 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد 2025 کو چیلنج کیا ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ قانون میں صحافتی سرگرمیوں کے لیے واضح استثنا نہ ہونے سے آزادانہ رپورٹنگ، تحقیقاتی صحافت اور ذرائع کی رازداری متاثر ہوسکتی ہے۔

قانون کے تحت ذاتی معلومات پر کارروائی کے لیے متعلقہ فرد کی رضامندی یا قانون میں درج مخصوص جائز بنیادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ اس شرط کے باعث کسی شخصیت یا معاملے پر خبر شائع کرنے سے پہلے متعلقہ فرد کی اجازت لینا ضروری ہوسکتا ہے، جس سے بدعنوانی اور دیگر عوامی مفاد کے معاملات کی تحقیقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

درخواست گزاروں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ قانون کی بعض شقیں حکومت کو اداروں سے معلومات طلب کرنے کا اختیار دیتی ہیں، جبکہ ذاتی معلومات تک رسائی سے متعلق قواعد میں تبدیلی عوام کے حقِ معلومات کو محدود کرسکتی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر 250 کروڑ بھارتی روپے تک جرمانے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

مزید پڑھیں:منی پور میں بھارتی آسام رائفلز کے اہلکار کی خودکشی، فوجیوں میں نفسیاتی امراض شدت اختیار کرگئے

سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر مزید سماعت 17 نومبر کے لیے مقرر کی ہے۔ متنازع قانون کی بیشتر اہم دفعات مئی 2027 سے نافذ ہونے والی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp