امریکی مداخلت کے بغیر مشرق وسطیٰ اپنے مسائل خود حل کر سکتا ہے، ایرانی صدر پزشکیان کی پیوٹن سے گفتگو

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن  سے ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ خطے کے ممالک امریکی مداخلت کے بغیر اپنے تمام درپیش مسائل حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے اجلاس میں شرکت کے بعد ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’  کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ اجلاس کے دوران توانائی اور گیس کے شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اہم معاہدے طے پائے۔ دورے کے دوران ایرانی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیے محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات، پاکستان ایران تعلقات مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں ایرانی صدر نے زور دے کر کہا ’میرا پختہ یقین ہے کہ ہم امریکا پر انحصار کیے بغیر خطے میں اپنے تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکا کے اقدامات ہمیں کثیر الجہتی تعلقات اور ان ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں جو خود بھی امریکی یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہیں۔‘

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سائنس، صنعت، ثقافت، سیکیورٹی اور عسکری امور میں باہمی تعاون کو وسیع کرنے کے لیے دونوں ممالک میں مضبوط سیاسی ارادہ موجود ہے۔

خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

ملاقات کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

ولادیمیر پیوٹن نے کہا ’ہم نے خطے کے تناظر میں ون آن ون ملاقات کی ہے، جو کہ بلا شبہ باعثِ تشویش ہے۔ مجھے امید ہے کہ صورتحال مثبت سمت کی طرف پیشرفت کرے گی۔‘

اسلام آباد معاہدے پر امریکا کا رویہ ‘سفارت کاری کی توہین’: ایران

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ واشنگٹن کی طرف سے ’سفارت کاری کے ساتھ توہین آمیز سلوک‘ کو ظاہر کرتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (X) پر جاری کردہ اپنے پیغام میں ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے پر کبھی یقین نہ رکھنے اور اسے وقت کا ضیاع قرار دینے کے اعتراف نے امریکی سفارتی عہد و پیمان کی ’کھوکھلی حقیقت‘ کو بے نقاب کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان

انہوں نے واشنگٹن پر بار بار اپنے وعدوں سے مکرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی بین الاقوامی ذمہ داریاں امریکی مفادات کے منافی ہوتی ہیں، وہ انہیں مسترد کر دیتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے یورپی ممالک کی جانب سے امریکی احتساب میں ناکامی پر بھی تنقید کی اور لکھا ’منسوخ شدہ معاہدوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی بین الاقوامی قوانین کا انتخاب پسند کے مطابق ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی سیاسی پروپیگنڈا واشنگٹن کو اس کی جوابدہی سے بری الذمہ نہیں کر سکتا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp