امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف اور عوامی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ کسی صورت ملتوی نہیں ہوگا اور نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ادارہ نور حق کراچی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی کی شدید مذمت کی اور وفاقی حکومت کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیے حکومت نے مزید وقت مانگا ہے، پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو نومبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، حافظ نعیم
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ لانگ مارچ سے قبل ہی پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنے کے لیے ایک شفاف اور واضح نظام وضع کرے۔
غریب اور مڈل کلاس پر 100 ارب سے زائد کا بوجھ
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا 70 فیصد سے زائد بوجھ ملک کی غریب اور مڈل کلاس آبادی پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ غریب اور متوسط طبقہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کو 100 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم ادا کر رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔
یہ بھی پڑھیے لانگ مارچ ختم نہیں کیا بلکہ صرف روکا گیا ہے، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے حکومت کی ریلیف پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ’حکومت ہر مہینے عوام سے ڈیڑھ سو ارب روپے کا لیوی بھتہ وصول کرتی ہے اور بدلے میں محض 32 ارب روپے کا معمولی ریلیف دیتی ہے۔ ہم یہ ناقص ریلیف قبول نہیں کریں گے، عوام کو ان کا مکمل حق دیا جائے وگرنہ حتمی فیصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوگا۔‘
فارم 47 کی حکومت سے بھی حق لے کر رہیں گے
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی جاری احتجاجی تحریک ہی کی بدولت حکومت کا ہاتھ کچھ حد تک رکا ہوا ہے اور عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’فارم 47 کی حکومت ہو یا 48 کی، اس وقت ریلیف دینے کا اختیار حکومت ہی کے پاس ہے اور ہم عوامی حقوق ان سے چھین کر رہیں گے۔ الحمدللہ! جماعت اسلامی کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے، ہم عوامی حقوق کی خاطر میدان میں موجود ہیں اور مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘











