لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ استعفے کے متن کے مطابق انہوں نے ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر یہ فیصلہ کیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ سائلین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

استعفے میں انہوں نے لکھا کہ ان کا ضمیر موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔ اب وہ وکالت میں واپس آکر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ رواں سال اپریل میں ان کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ تبادلہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
واضح رہے کہ اپریل میں جوڈیشل کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ تبادلوں کی منظوری دی تھی۔











