افغانستان میں طالبان حکام نے قرنیے کی پیوندکاری کے آپریشنز روکنے کی زبانی ہدایت جاری کردی، جس کے باعث بینائی کی بحالی کے منتظر سینکڑوں مریضوں کو علاج سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کے حملوں میں اضافہ، ایک ماہ میں 50 کارروائیوں کا دعویٰ
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق طالبان حکام نے اس طبی عمل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے ڈاکٹروں کو آپریشنز روکنے کا حکم دیا ہے۔
کابل کے نور آئی اسپتال کے ایک ڈاکٹر نور زمان ہاشم کے مطابق پابندی سے قبل اسپتال میں حالیہ مہینوں کے دوران قرنیے کی پیوندکاری کے 90 آپریشن کیے گئے تھے، تاہم زبانی ہدایت کے بعد یہ سلسلہ روک دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جلال آباد میں بھی قرنیے کی پیوندکاری کا پروگرام متاثر ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی امریکا میں پاکستانی نژاد معالجین کی تنظیم نے رواں سال مفت قرنیے کی پیوندکاری کا پروگرام افغانستان تک توسیع دیا تھا، جس کے تحت 150 سے زائد آپریشنز میں مدد فراہم کی گئی۔ اس پروگرام کے ذریعے ایسے مریضوں کو علاج کی سہولت دی جارہی تھی جو دھماکوں، حادثات اور دیگر وجوہات کے باعث بینائی سے محروم ہوگئے تھے۔
امریکی ریاست الینوائے میں قائم اس فلاحی تنظیم نے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پابندی ختم کرکے ڈاکٹروں کو دوبارہ آپریشنز کی اجازت دی جائے تاکہ بینائی کی بحالی کے منتظر مریض علاج سے مستفید ہوسکیں۔











