شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے یونٹس کو جنگ لڑنے کے لیے مکمل طور پر تیار کریں اور سخت و مسلسل تربیت کے ذریعے ان کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لائیں۔
ان کا یہ بیان جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں حالیہ دھماکے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہوئے تھے۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے ’کے سی این اے‘ کے مطابق، کم جونگ اُن نے یہ ہدایات کورین پیپلز آرمی کے کمپنی کمانڈروں کے تیسرے اجلاس میں شریک افراد کے ساتھ ایک تصویری نشست کے دوران دیں۔ ان کے یہ بیانات بدھ کو سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیے۔
یہ بھی پڑھیں:تائیوان میں امریکی مداخلت خطے کا امن تباہ کر رہی ہے، شمالی کوریا
کم جونگ اُن نے کہا کہ کمپنی کمانڈروں کا بنیادی انقلابی فریضہ اپنی یونٹس کی جنگی تیاریوں کو اس حد تک مکمل کرنا ہے کہ وہ جنگ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔
ان کے بقول اس مقصد کے حصول کا راستہ سخت، مسلسل اور بھرپور فوجی تربیت میں بنیادی بہتری لانا ہے۔
شمالی کوریائی رہنما نے فوجی کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ اپنی کمپنیوں کو ایسی مؤثر جنگی قوت میں تبدیل کریں جو غیر معمولی صلاحیت اور تیاری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر سکے۔
حکمران جماعت سے وفاداری اور جنگی کارکردگی
کم جونگ اُن نے فوجی کمانڈروں سے کہا کہ وہ حکمران ورکرز پارٹی اور ’انقلاب‘ سے اپنی وفاداری کا ثبوت عملی کامیابیوں کے ذریعے دیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ اپنی کمپنیوں کو ’ایک کے مقابلے میں 100‘ کی قوت رکھنے والی صفوں میں تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کریں۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے پختہ انقلابی یقین، حب الوطنی کے جذبے، بے مثال بہادری اور اعلیٰ جنگی صلاحیت کو بنیادی اہمیت دی۔
مزید پڑھیں:شمالی کوریا کی ویٹ لفٹر نے 3 عالمی ریکارڈ قائم کرکے ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیت لیا
ان کے بیان میں فوجی تربیت، یونٹس کی تیاری اور کمانڈروں کی عملی کارکردگی کو نمایاں حیثیت دی گئی، جبکہ فوجی قیادت سے توقع کی گئی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے۔
ڈی ایم زیڈ میں دھماکے کے بعد کشیدگی میں اضافہ
کم جونگ اُن کا یہ بیان جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔ گزشتہ ماہ شمالی اور جنوبی کوریا کو جدا کرنے والے غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) کے اندر ایک دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
جنوبی کوریا نے اس واقعے کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہرایا، تاہم ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان فوجی رابطوں کی بحالی پر زور دیا تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
سیئول کا مؤقف ہے کہ فوجی رابطوں کی بحالی دونوں جانب کے درمیان تناؤ کم کرنے اور ممکنہ طور پر مزید واقعات کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔
پیانگ یانگ نے الزامات مسترد کر دیے
شمالی کوریا نے ڈی ایم زیڈ میں دھماکے سے متعلق جنوبی کوریا کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ تاہم، پیانگ یانگ نے اب تک فوجی رابطوں کی بحالی اور مذاکرات کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں:شمالی کوریا کا نئے میزائل کا تجربہ، دشمن کو ’ناقابلِ علاج دردِ سر‘ دینے کا دعویٰ
اس واقعے پر دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے اپنے مؤقف اور واقعات کی تفصیلات پر مشتمل خطوط بھی ارسال کیے ہیں۔ ان خطوط کے ذریعے دونوں فریقوں نے 21 ستمبر کو پیش آنے والے ڈی ایم زیڈ واقعے کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
خطے کی تازہ صورت حال
شمالی کوریا کی جانب سے فوجی تربیت تیز کرنے، جنگی تیاریوں کو مکمل کرنے اور کمانڈروں سے عملی نتائج حاصل کرنے پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں کوریائی ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی اور حالیہ سرحدی واقعے نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
تاہم، کم جونگ اُن کے بیان میں کسی مخصوص فوجی کارروائی، حملے یا جنگ کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان کے بیانات کا مرکزی نکتہ فوجی یونٹس کی جنگی تیاری، تربیت میں بہتری اور فوجی قیادت کی کارکردگی کو مؤثر بنانا ہے۔









