دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں سے بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہوتی ہے جنہیں بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لیے صرف نمک کم نہ کریں، پوٹاشیم کی مقدار بھی بڑھائیں، طبی ماہرین
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جائے تو دنیا بھر میں ہر سال 5 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
یہ نتائج 20 ایسے ممالک کے صحت سے متعلق اعدادوشمار کے تجزیے پر مبنی ہیں جہاں غیرمتعدی بیماریوں کے باعث اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ اگر مختلف بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے بروقت علاج کے لیے طبی سہولتوں کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے تو ہر سال کتنی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔
یہ تحقیق امریکی ریاست ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے ہائی بلڈ پریشر سے متعلق سائنسی اجلاس 2026 میں پیش کی گئی ہے تاہم اس کے نتائج ابھی ماہرین کے باقاعدہ جائزے یعنی پیئر ریویو کے مرحلے سے نہیں گزرے۔
دنیا بھر میں ہونے والی تقریباً ہر 5 میں سے 3 اموات غیرمتعدی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں میں دل اور خون کی شریانوں کے امراض سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتے ہیں جن کا بوجھ ذیابیطس اور کینسر جیسی دیگر دائمی بیماریوں سے بھی زیادہ ہے۔
ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانا سب سے زیادہ مؤثر کیوں؟
تحقیق میں ماہرین نے احتیاطی طبی سہولتوں کی 6 اقسام کا جائزہ لیا جن میں ہائی بلڈ پریشر کا علاج، کولیسٹرول کم کرنے کے لیے اسٹیٹن ادویات کا استعمال، ٹائپ ون اور ٹائپ 2 ذیابیطس میں خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنا، بڑی آنت کے کینسر کی اسکریننگ، چھاتی کے کینسر کی اسکریننگ اور سروائیکل کینسر کی اسکریننگ شامل تھیں۔
محققین نے حساب لگایا کہ اگر ان طبی سہولتوں کی فراہمی موجودہ سطح سے بڑھا کر ان کے اہل تقریباً 80 فیصد افراد تک پہنچا دی جائے تو ہر سال کتنی اموات روکی جاسکتی ہیں۔
نتائج کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے علاج میں توسیع سے سب سے زیادہ جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد کولیسٹرول کنٹرول کرنے کے لیے اسٹیٹن ادویات کے استعمال اور ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر کی سطح بہتر بنانے کا نمبر آتا ہے۔
مزید پڑھیے: ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، نئی تحقیق
تحقیق میں سامنے آیا کہ بلند فشار خون کے شکار بالغ افراد میں سے صرف ہر 5 میں سے ایک کا بلڈ پریشر 140/90 ملی میٹر مرکری سے کم رکھنے میں کامیابی حاصل کی جارہی ہے۔
محققین کے تخمینے کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے علاج کی سہولت کو موجودہ تقریباً 20 فیصد سطح سے بڑھا کر 80 فیصد اہل مریضوں تک پہنچانے سے ہر سال دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کے باعث ہونے والی 5 لاکھ 18 ہزار 476 اموات روکی جاسکتی ہیں۔
اسی طرح کولیسٹرول کنٹرول کرنے کے لیے اسٹیٹن ادویات کا استعمال 16 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد تک کرنے سے سالانہ 3 لاکھ 40 ہزار 682 اموات سے بچا جاسکتا ہے جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے سے مزید 3 لاکھ 9 ہزار 520 جانیں بچانے کا امکان ہے۔
کینسر کی اسکریننگ کے حوالے سے بڑی آنت کے کینسر کی جانچ میں اضافہ سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سہولت کی فراہمی 14 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد تک کرنے سے ہر سال کینسر کے باعث ہونے والی تقریباً 2 لاکھ 6 ہزار 767 اموات روکی جاسکتی ہیں۔
زیادہ تر مریضوں کو بروقت طبی سہولتیں کیوں نہیں ملتیں؟
تحقیق میں مختلف بیماریوں کے مریضوں کو ملنے والی طبی سہولتوں اور تجویز کردہ علاج کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے صرف 20 فیصد مریضوں کا فشار خون کنٹرول میں تھا جبکہ بلند کولیسٹرول کے شکار صرف 16 فیصد افراد اسٹیٹن ادویات استعمال کر رہے تھے۔
اسی طرح ذیابیطس کے 39 فیصد مریضوں میں خون میں شوگر کی سطح تجویز کردہ حد تک برقرار تھی جبکہ بڑی آنت کے کینسر کی اسکریننگ کے اہل افراد میں سے صرف 14 سے 26 فیصد یہ سہولت حاصل کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: ایپل نے بلڈ پریشر مانیٹرنگ سمیت جدید فیچرز سے لیس واچ الٹرا 3 متعارف کروا دی
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسکاٹ پیلا کے مطابق تمام ممالک میں احتیاطی طبی سہولتوں کی فراہمی میں نمایاں کمی دیکھی گئی تاہم کم متوسط آمدنی والے ممالک میں بہتری کی گنجائش کہیں زیادہ ہے۔
ان ممالک میں ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کی شرح کم جبکہ کینسر کی اسکریننگ کی سہولتوں کا استعمال بھی محدود پایا گیا۔
محققین کے مطابق اس تجزیے سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ احتیاطی طبی سہولتوں کی فراہمی بڑھانے سے کتنی جانیں بچائی جاسکتی ہیں لیکن یہ تحقیق اس بات کا جواب نہیں دیتی کہ ان سہولتوں تک لوگوں کی رسائی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے جائیں۔
اس مقصد کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مختلف آمدنی والے ممالک میں طبی سہولتوں کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو سمجھا اور ان کا حل تلاش کیا جاسکے۔
ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے جسم کو نقصان پہنچاتا ہے
ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس بیماری میں شریانوں کے اندر خون کا دباؤ معمول سے زیادہ رہتا ہے جس سے وقت گزرنے کے ساتھ خون کی شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کے اندرونی راستے تنگ ہونے لگتے ہیں۔
اس صورت حال میں شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں دل کی شریانوں کی بیماری اور دیگر سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ ڈاکٹر ڈینیئل ڈبلیو جونز کے مطابق طبی رہنما اصولوں کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کا علاج نہ صرف اس بیماری سے ہونے والی اموات کا خطرہ کم کرتا ہے بلکہ ہارٹ فیل ہونے، فالج اور یادداشت و دماغی صلاحیتوں میں کمی یعنی ڈیمنشیا جیسے مسائل سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کو مقررہ حد تک کنٹرول میں رکھنے سے انسان زیادہ طویل اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔
لوگ بلڈ پریشر چیک کیوں نہیں کرواتے؟
ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر کے علاج اور احتیاطی طبی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اکثر افراد کو اس بیماری کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
برطانیہ کے مے فیلڈ کلینک سے وابستہ جنرل فزیشن ڈاکٹر اوپل بیکر کے مطابق بہت سے لوگ اس وقت تک طبی معائنہ نہیں کرواتے جب تک انہیں کسی بیماری کی واضح علامات محسوس نہ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر اس کی ایک بڑی مثال ہے، کیونکہ یہ بیماری کئی برس تک کسی نمایاں علامت کے بغیر موجود رہ سکتی ہے لیکن اس دوران دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھاتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ گردوں کی بیماریاں اموات میں اضافے کا سبب قرار
ان کے مطابق جب کوئی شخص خود کو ٹھیک محسوس کر رہا ہو تو اس کے لیے بلڈ پریشر چیک کروانے یا معمول کے طبی معائنے کو مؤخر کرنا آسان ہوتا ہے۔
میموریل کیئر ہارٹ اینڈ ویسکیولر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر نیسی سپوگو کے مطابق علامات ظاہر نہ ہونا ایک اہم رکاوٹ ہے تاہم علاج کے اخراجات، ڈاکٹروں اور طبی مراکز تک محدود رسائی اور صحت مند طرز زندگی برقرار رکھنے میں مشکلات بھی اس مسئلے کو بڑھاتی ہیں۔
ڈاکٹر بیکر کے مطابق طبی ماہرین کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کی جلد شناخت کریں جنہیں ہائی بلڈ پریشر یا دیگر بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے اور انہیں بروقت علاج کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے جانچ، جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ اور خوراک میں مناسب تبدیلیاں جیسے چھوٹے مگر مستقل اقدامات صحت پر نمایاں مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کیا شوگر کے شکار مردوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر جان لیوا ہوسکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق احتیاطی طبی معائنے کو روزمرہ صحت کی دیکھ بھال کا حصہ بنانا ضروری ہے کیونکہ بیماری کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت تشخیص اور علاج سے سنگین پیچیدگیوں اور قبل از وقت اموات سے بچا جاسکتا ہے۔









