آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ متعدی امراض کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل محمود کے مطابق رواں سال اسپتال میں انفلوئنزا کے تقریباً 400 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں ایچ ون این ون وائرس پھیل رہا ہے، جسے سوائن فلو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس وقت کے ساتھ تبدیلیوں سے گزرتا رہتا ہے اور اس کی نئی اقسام سامنے آتی رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نزلہ زکام کورونا وائرس سے بچاؤ میں مددگار، نئی تحقیق میں انکشاف
ڈاکٹر فیصل محمود نے بتایا کہ فلو کے شبہ میں آنے والے ہر مریض کا لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کیا جاتا بلکہ عموماً شدید بیمار افراد کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق انفلوئنزا بعض مریضوں میں سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، جن میں نمونیا بھی شامل ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کو اس حوالے سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب سول اسپتال کراچی کے شعبہ حادثات کے سربراہ ڈاکٹر عمران سرور شیخ نے بتایا کہ گزشتہ چند روز کے دوران فلو کی علامات والے مریضوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔ اسپتال میں روزانہ 70 سے 80 مریض آرہے ہیں، جن میں سے تقریباً 10 افراد میں انفلوئنزا کا شبہ ہوتا ہے۔ ایسے مریضوں کو مزید طبی معائنے اور ٹیسٹوں کے لیے ڈاؤ اسپتال بھیجا جا رہا ہے۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ حادثات کے ڈپٹی انچارج ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بھی فلو اور انفلوئنزا کے مشتبہ مریضوں کی تعداد بڑھنے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق اس بیماری کی عام علامات میں تیز بخار، ناک بہنا اور کھانسی شامل ہیں، تاہم کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں انفیکشن سانس کی نالی کو متاثر کرکے نمونیا اور پھیپھڑوں میں سیال جمع ہونے جیسی سنگین پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں نزلہ زکام ،کھانسی کی وبا پھیل گئی
طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فلو سے بچاؤ کے لیے چہرے پر ماسک پہنیں، دوسروں سے مناسب جسمانی فاصلہ رکھیں اور بیمار افراد کی دیکھ بھال کرتے وقت خصوصی احتیاط کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہے، اس لیے بالخصوص بچوں، بزرگوں اور ایسے افراد کو جن میں بیماری کی شدت بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہو، ویکسین لگوانے کے حوالے سے مستند طبی ماہرین سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ڈاکٹروں نے متاثرہ افراد کو صحت مند اور متوازن غذا استعمال کرنے کے ساتھ پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ سوپ، شوربے اور پانی سے بھرپور پھل جسم میں پانی کی کمی سے بچانے اور صحت یابی کے دوران مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
کراچی میں فلو کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ویکسین کے معیار اور دستیابی سے متعلق خدشات بھی دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمی انفلوئنزا کے پھیلاؤ اور اس کی شدت میں کمی لانے کے لیے ویکسینیشن اہم کردار ادا کرسکتی ہے، تاہم شہریوں کو ویکسین صرف مجاز اور قابل اعتماد ذرائع سے حاصل کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نزلہ، بخار، جسم میں درد: کہیں پاکستان میں کورونا دوبارہ تو نہیں پھیل رہا؟
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فلو کے موسم میں احتیاطی تدابیر اور بروقت ویکسینیشن خصوصی اہمیت رکھتی ہیں، بالخصوص ان افراد کے لیے جو انفلوئنزا کی وجہ سے شدید بیمار ہونے کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔









