خیبر پختونخوا میں 72 گھنٹوں کے دوران منکی پاکس کے مزید 4 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد رواں سال صوبے میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے، تاہم اس وقت 4 مریض زیر علاج ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے نئے مریضوں میں ایک خاتون اور 3 مرد شامل ہیں۔ نئے کیسز میں سے 2 کا تعلق نوشہرہ، ایک کا پشاور اور ایک کا مردان سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی میں 20 روزہ بچے کو منکی پاکس کیسے ہوا؟ غیر قانونی اسپتال سیل، طبی انتظامات پر سنگین سوالات
حکام کے مطابق چاروں نئے مریضوں کی بیرونِ ملک سفر کی کوئی تاریخ سامنے نہیں آئی، جس کے باعث وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کے خدشات کے پیش نظر متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال صوبے میں منکی پاکس کے 18 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 13 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں، جبکہ ایک مریض کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔ ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں سب سے زیادہ 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا
طبی ماہرین کے مطابق منکی پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی جسمانی رابطے، جلد پر موجود زخموں اور آلودہ اشیا کے ذریعے منتقل ہوسکتی ہے۔ اس کی نمایاں علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد، غدود کی سوجن اور جلد پر دانے یا چھالے نکلنا شامل ہیں۔
شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر طبی معائنہ کرائیں اور ممکنہ طور پر متاثرہ شخص سے قریبی رابطے سے گریز کریں۔










