اے آئی نے کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا؟ طلبہ کے رجحانات پر نئی رپورٹ

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت (اے آئی) تعلیمی شعبے میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان طلبہ اب بھی اس بات کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں کہ اسکول کے کام میں اے آئی کا استعمال کہاں تک مناسب اور قابلِ قبول ہے۔

 برطانیہ بھر میں ہزاروں طلبہ پر کی جانے والی تحقیق نے تعلیم میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے استعمال سے متعلق نوجوانوں کے مختلف نقطۂ نظر کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان

تحقیق کے دوران برطانیہ بھر سے 13 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 4 ہزار طلبہ کی آراء حاصل کی گئیں۔ نتائج کے مطابق نوجوان مختلف طریقوں سے اے آئی کو اپنے تعلیمی کام میں استعمال کر رہے ہیں تاہم اس کے درست اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے ان میں ابہام پایا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ طلبہ تعلیم میں اے آئی کے کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، نہ صرف اپنی تعلیم بلکہ اساتذہ کی تدریسی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

محققین کے مطابق یہ رپورٹ 2025 میں شائع ہونے والی ایک ابتدائی تحقیق کا تسلسل ہے جس میں پہلی مرتبہ برطانیہ کے نوجوانوں سے براہِ راست تعلیم میں اے آئی کے استعمال اور اس سے متعلق ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو اے آئی کے استعمال کے حوالے سے واضح رہنما اصول مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ اس ٹیکنالوجی سے مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استفادہ کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp