کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے کر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ جے آئی ٹی قتل، اغوا اور شواہد ضائع کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرے گی، جبکہ موبائل فون، اسمارٹ واچ، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی اکاؤنٹس کا فرانزک جائزہ بھی لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی منظوری کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ کو تحقیقاتی ٹیم کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: پولیس سرجن کے خلاف ہراسانی مہم پر کمیشن نے این سی سی آئی اے کو تحقیقات کی سفارش کردی
نوٹیفکیشن کے مطابق میر رضا علی قتل کیس کی ایف آئی آر نمبر 795/2026 جے آئی ٹی کے سپرد کردی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم قتل، اغوا اور شواہد ضائع کرنے کے الزامات کا جائزہ لینے کے ساتھ انکوائری کمیشن کی جانب سے نشاندہی کیے گئے مختلف پہلوؤں کی بھی تحقیقات کرے گی۔
جے آئی ٹی کو مقدمے سے متعلق تمام مادی، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مقتول کے موبائل فون، ایپل واچ، آئی کلاؤڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا فرانزک تجزیہ کیا جائے گا، جبکہ ان کے کرپٹو کرنسی اور بائنانس اکاؤنٹس کی بھی چھان بین ہوگی۔
تحقیقاتی ٹیم کو قتل کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور عدالت میں رپورٹ اور چالان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سندھ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
26 اکتوبر کو این سی سی آئی اے نے محکمہ داخلہ سندھ کو خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر جے آئی ٹی میں ادارے کی نمائندگی کریں گے۔ خط میں کہا گیا تھا کہ این سی سی آئی اے ڈیجیٹل فرانزکس، موبائل فون ڈیٹا کی جانچ اور میر رضا علی کی اسمارٹ واچ کے تجزیے میں تحقیقاتی ٹیم کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
میر رضا علی قتل کیس کا پس منظر
کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک ویران مقام سے ملی۔ پولیس نے ابتدا میں واقعے کو ممکنہ خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اہلِ خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا شبہ ظاہر کیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم اور پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھنے کے بعد عدالت نے 6 اگست کو قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت دی۔ میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر تنازع کے باعث کارروائی میں تاخیر ہوئی، تاہم 8 اگست کو قبرکشائی کرکے میر رضا علی کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کے زخم اور جسم سے اس کے گزرنے کے راستے سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں، جنہیں خودکشی کے ابتدائی مؤقف سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ اس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، جے آئی ٹی تشکیل دلوا کر رہیں گے، مقتول کے والد میر حسین
واقعے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے 24 اگست کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے واقعے کے حالات، پولیس کی ابتدائی تفتیش، طبی شواہد اور شواہد جمع کرنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔
2 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے اہلِ خانہ کی جانب سے آزاد اور کثیر ادارہ جاتی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ جے آئی ٹی بنانا حکومت کا اختیار ہے۔
20 اکتوبر کو عدالتی کمیشن نے 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس کی تفتیش کو شدید ناکامی قرار دیا اور میر رضا علی کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے تحقیقات میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے اور ممکنہ غفلت یا شواہد میں رد و بدل کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی تھی۔
عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں سندھ حکومت نے 24 اکتوبر کو ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اب اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تحقیقاتی ٹیم کو واقعے سے متعلق شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا قتل کیس: ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان لفظی جنگ، جوڈیشل کمیشن کا تحقیقات میں توسیع کا فیصلہ
میر رضا علی کے قتل کے ذمہ دار افراد، واقعے کے محرکات اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں حتمی حقائق تاحال سامنے نہیں آئے۔ ان پہلوؤں کا تعین جے آئی ٹی کی تحقیقات اور آئندہ قانونی کارروائی کے بعد ہوسکے گا۔











