20 سال قبل چوری ہونے والی پینٹنگ مصنوعی ذہانت کی مدد سے برآمد

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹلی میں مصنوعی ذہانت کے جدید نظام نے چوری شدہ فن پاروں کی شناخت میں اہم کامیابی حاصل کرلی، ایک پینٹنگ کی بدلی ہوئی شکل پہچان کر اسے 20 سال بعد برآمد کرلیا گیا۔

اٹلی میں پولیس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے 20 سال قبل چوری ہونے والی ایک پینٹنگ تلاش کرلی۔ سترہویں صدی کا یہ فن پارہ 2004 میں ایک چھوٹے گرجا گھر سے چوری کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں اس کی اصل شناخت چھپانے کے لیے تبدیل کردیا گیا۔

مصنوعی ذہانت کے نظام نے پینٹنگ میں رنگوں، نقش و نگار اور ترتیب کی مماثلتوں کی مدد سے اسے شناخت کیا، حالانکہ اس میں موجود مذہبی علامات بھی مٹا دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے رینوائر میوزیم میں ڈکیتی، چور 2 قیمتی پینٹنگز لے اڑے

یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں اٹلی کے شہر پارما میں نوادرات کے سالانہ میلے کے دوران سامنے آیا، جہاں پولیس اہلکار مختلف فن پاروں کی تصاویر لے کر اپنے ڈیٹابیس میں شامل کر رہے تھے۔ چند گھنٹوں بعد مصنوعی ذہانت کے نظام نے ایک پینٹنگ کو مشتبہ قرار دیا، جس میں ایک نوجوان خاتون ہاتھ میں کاغذ کا صفحہ اٹھائے ہوئے تھی۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ یہ دراصل سینٹ اگنیس کی وہ پینٹنگ تھی جسے 11 اگست 2004 کو نیپلز کے قریب واقع علاقے سولمونا کے ورگو پوٹینس گرجا گھر سے چوری کیا گیا تھا۔ چوروں نے پینٹنگ میں موجود سفید بھیڑ، ہالے اور کھجور کی شاخ کو تبدیل یا مٹا کر اسے ایک عام نوجوان خاتون کی تصویر بنا دیا تھا۔

اٹلی کی پولیس نے 2020 میں چوری شدہ فن پاروں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام تیار کرنا شروع کیا تھا، جسے اسٹولن ورکس آف آرٹ ڈیٹیکشن سسٹم (سوڈز) کا نام دیا گیا۔ نومبر 2023 میں متعارف کرائے جانے کے بعد اس نظام کی مدد سے 300 سے زیادہ بڑے چوری شدہ فن پارے اور مجسمے، جب کہ ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد سکے، تمغے، خطوط، مخطوطات، مذہبی اشیا، ڈاک ٹکٹ اور کارڈز برآمد کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق ان اشیا کی مجموعی مالیت 20 کروڑ 30 لاکھ یورو سے زیادہ ہے۔ یہ نظام انٹرنیٹ، آن لائن نیلام گھروں اور تجارتی ویب سائٹس پر موجود تصاویر کا بھی مسلسل جائزہ لیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اٹلی کے عجائب گھر سے کروڑوں ڈالر مالیت کی 3 نایاب پینٹنگز چوری

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت چوری شدہ فن پاروں کی تلاش میں مؤثر معاون ثابت ہو رہی ہے، تاہم یہ انسانی تفتیش اور قانونی تعاون کا متبادل نہیں۔ ناقص تصاویر، نقل شدہ فن پاروں اور سہ  جہتی اشیا کی شناخت اب بھی اس ٹیکنالوجی کے لیے چیلنج ہے۔ 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باعث اس پینٹنگ کی چوری کے معاملے میں قانونی کارروائی ممکن نہیں رہی، تاہم 20 مئی 2025 کو اسے واپس گرجا گھر کے حوالے کردیا گیا، جہاں اسے بحال کرکے دوبارہ اپنی اصل جگہ آویزاں کیا جانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیر چوک انڈر پاس کی تعمیر، راول ڈیم چوک سے سرینا ہوٹل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند

سردیوں کی آمد، اسلام آباد میں سستے اور اسٹائلش گرم کپڑے کہاں سے مل سکتے ہیں؟

امریکا کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم پیشقدمی، ٹرمپ کی جماعت کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ

کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟

جھوٹے الزام لگانا عاجزی اور جواب دینا تکبر ہے؟ مریم نواز کا سالک حسین کے بیان پر جوابی وار

ویڈیو

سردیوں کی آمد، اسلام آباد میں سستے اور اسٹائلش گرم کپڑے کہاں سے مل سکتے ہیں؟

امریکا کے وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس کی اہم پیشقدمی، ٹرمپ کی جماعت کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا