امریکی ریاست نیویارک کی گورنر نے بدھ کے روز ایک نئے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت کمسن بچوں اور نوجوانوں کے بطور ’رفیق و ساتھی‘ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے چیٹ باٹس کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ عام صارفین کے لیے دستیاب اے آئی ماڈلز پر پابندی کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اور وسیع تر اقدام ہے۔
اس نئے قانون کے تحت چیٹ باٹ فراہم کرنے والے اداروں مثلاً اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی کو اپنے صارفین کی عمر کی تصدیق کرنا ہوگی۔ اگر صارف کی عمر 18 سال سے کم ہو تو مصنوعی ذہانت کے انٹرفیس میں بعض مخصوص خصوصیات کے استعمال کو محدود کرنا لازم ہوگا۔
قانون کے متن کے مطابق، اگر کوئی کمسن بچہ چیٹ باٹ کا استعمال کرتا ہے، تو اے آئی ایسا کوئی مواد تخلیق نہیں کر سکے گا جس سے بچے کو یہ تاثر ملے کہ وہ ’کوئی انسان، زندہ وجود ہے یا انسانی جذبات کا حامل ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی
مزید برآں، یہ چیٹ باٹس کوئی ایسا ردِعمل یا تحریر بھی تیار نہیں کر سکتے جس سے بچے کو لگے کہ اس کا اے آئی کے ساتھ ’کوئی ذاتی، پیشہ ورانہ یا کسی بااختیار شخص جیسا تعلق‘ ہے، اور نہ ہی اے آئی اپنے مواد کو کسی ’ذاتی رائے‘ کے طور پر پیش کر سکے گا۔
بدھ کو قانون پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچول کا کہنا تھا ’اب کمسن بچوں کو ایسے چیٹ باٹس تک رسائی نہیں ملے گی جو ان کے دوست، بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ بننے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ اب چیٹ باٹس کو کسی کمسن بچے کی جذباتی اور جسمانی صحت سے متعلق حساس معلومات محفوظ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘
امریکا کی دیگر ریاستوں، بشمول کیلیفورنیا نے بھی چیٹ باٹس کو محدود کرنے والے قوانین پاس کیے ہیں، لیکن ہوچول کے دستخط کردہ اس قانون میں استعمال کی گئی زبان اور شرائط ٹیکنالوجی کو ضابطے میں لانے کا سب سے سخت ترین فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جس سے اے آئی کمپنیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
نیویارک میں ٹیک شعبے کے مفادات کی نمائندگی کرنے والے تنظیمی گروپ ‘ٹیک: این وائی سی’ نے اس قانون کی ’مبہم زبان‘ پر تنقید کی ہے۔
گروپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ’بچوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں ان جدید آلات سے ہی محروم کر دیا جائے جو انہیں سیکھنے اور ان کے مستقبل کے کیریئر کی تیاری میں مدد فراہم کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے نیویارک میئر ظہران ممدانی نے اسکولوں میں ’اے آئی‘ کے استعمال پر پابندی کیوں عائد کی؟، وجہ سامنے آگئی
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کی جانب سے اس نئے قانون پر تبصرے کی درخواست کا اے آئی کی معروف کمپنیوں ‘اوپن اے آئی’ اور ‘اینتھروپک’ نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب، بچوں کے لیے میڈیا کی افادیت و موزونیت کے حوالے سے والدین کی رہنمائی کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ‘کامن سینس میڈیا’ نے اس بل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’ملک میں بچوں کی اے آئی سے حفاظت کا سب سے مضبوط قانون‘ قرار دیا ہے۔
کامن سینس میڈیا کے سی ای او جِم اسٹائلر نے ایک بیان میں کہا ’اے آئی کمپنیاں ایسے چیٹ باٹس پیش کر رہی ہیں جن کے فیچرز بچوں اور نوجوانوں کے لیے انتہائی خطرناک اور بالخصوص جان لیوا تک ثابت ہوتے ہیں… اب ان نقصان دہ فیچرز کو نیویارک میں غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔‘











