روس کے خلاف جارحانہ بیان بازی اور چھیڑ چھاڑ بند کرو، امریکی وزارتِ دفاع کی نیٹو اتحادیوں کو سخت تنبیہ

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے اپنے یورپی نیٹو اتحادیوں کو روس کے خلاف شدید جارحانہ بیان بازی سے گریز کرنے اور ماسکو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز رہنے کی باضابطہ ہدایت کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے اعلیٰ حکام نے یورپی نیٹو اتحادیوں بالخصوص بالٹک ریاستوں لیتھویا، لیتھوینیا اور اسٹونیا سے ملاقاتیں کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا گولڈن ڈوم میزائل پروگرام عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے، روس اور چین کا انتباہ

ان ملاقاتوں میں امریکی حکام نے اتحادیوں کو مشورہ دیا کہ وہ روس سے درپیش خطرات سے متعلق اپنے عمومی بیانات میں نرمی لائیں اور غیر ضروری شور شرابے سے پرہیز کریں۔

جارحانہ بیانات اور پینٹاگون کا مؤقف

پینٹاگون کے پالیسی چیف ایلبرج کولبی نے دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا کہ غیر محتاط اور سخت الفاظ براعظم یورپ کی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے اسٹونین وزیراعظم کرسٹن مائیکل کے ستمبر میں دیے گئے اس بیان کی خاص طور پر نشاندہی کی جس میں انہوں نے ولادیمیر پیوٹن کو ’کونے میں گھرا ہوا چوہا‘ قرار دیا تھا۔

امریکی جریدے اور ذرائع کے مطابق یہ ہدایت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یوکرین جنگ کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی تازہ ترین کوششوں کا حصہ ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ امریکا کی ثالثی میں سہ فریقی مذاکرات نومبر کے اوائل میں شروع ہوں گے، تاہم ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

واشنگٹن اور ماسکو کے تعلقات میں گرمجوشی

حالیہ چند ہفتوں کے دوران عالمی برادری نے صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔

اس سفارتی گرمجوشی کے نتیجے میں ماسکو پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیزل کا بڑا معاہدہ بھی طے پایا ہے۔

پینٹاگون کے دفاعی منصوبہ ساز اس وقت یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی اور پوزیشن کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:روس، یوکرین اور امریکا کے حکام کے درمیان پہلی بار براہ راست سہ فریقی مذاکرات کا اعلان

اس جائزے کے نتیجے میں یورپ سے امریکی فوجیوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کا امکان ہے کیونکہ واشنگٹن اب اپنی تمام تر توجہ مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکا پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔

یورپی حکام نے پینٹاگون کی اس تنبیہ پر شدید حیرت اور تعجب کا اظہار کیا ہے کیونکہ بالٹک انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق روس کی جانب سے نیٹو کے دفاعی معاہدے پر براہ راست حملے کا فی الحال کوئی فوری امکان نہیں ہے۔

تاہم یورپی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عوام پر دفاعی اخراجات اور قربانیوں کو واضح کرنے کے لیے شفافیت ضروری ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب روس کی جانب سے مبینہ خفیہ تخریب کاری کی مہم تیز ہو رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp