امریکا میں امیگریشن اہلکاروں کا بڑا ڈیٹا لیک، 41 ہزار سے زائد ملازمین کے نام، فون نمبر اور دفتری پتے منظر عام پر آگئے

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے 41 ہزار سے زائد ملازمین کی ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات ہیکنگ کے بعد منظر عام پر آگئی ہیں جن میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کرنے والے ہزاروں اہلکار بھی شامل ہیں۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں ملازمین کے نام، دفتری پتے، فون نمبرز اور مختلف سرکاری اداروں میں ان کی ذمہ داریوں کی تفصیلات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹرمپ موبائل‘ پر صارفین کا ڈیٹا لیک کرنے کا سنگین الزام

یہ حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے اور ان کا ڈیٹا لیک ہونے کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ سامنے آنے والی اس معلومات میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) کے اہلکاروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارہ ممکنہ ڈیٹا لیک سے آگاہ ہے اور صورت حال سے فوری اور مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملازمین اور اہلکاروں کے خلاف سیکیورٹی خطرات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ مزید معلومات دستیاب ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

41 ہزار سے زائد اہلکاروں کا ڈیٹا کیسے منظر عام پر آیا؟

رپورٹ کے مطابق ’ڈپارٹمنٹ آف پیس‘ نامی گروپ نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا ڈیٹا حاصل کیا جسے بعد ازاں صحافی اور سائبر سیکیورٹی محقق مایا کرائمو اور ویب سائٹ ’ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس‘ نے آن لائن شائع کردیا۔ لیک ہونے والی معلومات کو ’آئس پک‘ نامی ڈیٹا بیس میں رکھا گیا ہے۔

اس ڈیٹا کے مطابق 21 ہزار سے زائد اہلکار کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن سے وابستہ ہیں جبکہ تقریباً 6 ہزار 600 ملازمین امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ میں کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کینوس پر بڑا سائبر حملہ، شائنی ہنٹرز کی جانب سے تعلیمی اداروں کے ڈیٹا لیک کا دعویٰ

اس کے علاوہ ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز، فیڈرل پروٹیکٹو سروس اور سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی سے وابستہ اہلکاروں کی معلومات بھی لیک ہونے والے ریکارڈ میں شامل ہیں۔

خفیہ آپریشنز اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی تفصیلات بھی لیک

لیک ہونے والے ڈیٹا میں کئی ایسے آپریشنز کے نام بھی شامل ہیں جن کے بارے میں پہلے عوامی سطح پر معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ ان آپریشنز کی نگرانی کرنے والے اور ان میں کام کرنے والے اہلکاروں کے ناموں کے علاوہ ان کی جانب سے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

ان میں ’سیل برائٹ‘ اور ’پیلانٹیر‘ جیسی کمپنیوں کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

ڈیٹا لیک کرنے والے گروپس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ہر اہلکار کی مکمل فہرست جاری کرنا نہیں تھا بلکہ سرکاری اہلکاروں کی شناخت کو منظر عام پر لاکر ان کے احتساب کو یقینی بنانا تھا۔

ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس کی شریک بانی ایما بیسٹ کے مطابق یہ لیک بظاہر سادہ معلومات پر مشتمل دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں خفیہ اور انڈر کور آپریشنز کی نگرانی کرنے والے حکام، سرکاری اداروں میں معلومات افشا کرنے والوں کی تلاش اور ناکام ’بلیو لیکس‘ تحقیقات سے وابستہ اہم اہلکاروں کی شناخت بھی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق اس میں امریکا کے بڑھتے ہوئے ملک بدری کے پروگراموں سے متعلق اہم اہلکاروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ’بلیو لیکس‘ سے مراد سال 2020 میں امریکی پولیس کے ڈیٹا کا ایک بڑا لیک ہے، جس کی معلومات بھی ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سیکریٹس نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کی تھیں۔

اوکٹا سروس کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی کا دعویٰ

’ڈپارٹمنٹ آف پیس‘ کے ترجمان نے بتایا کہ گروپ نے ’اوکٹا‘ نامی سنگل سائن آن سروس کے ذریعے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اہلکاروں کے پروفائلز تک رسائی حاصل کی۔

مزید پڑھیں: ملازمین کی جانب سے غیر منظور شدہ ٹولز کا بے دریغ استعمال، ڈیٹا لیک ہونے کے سنگین خطرات

اوکٹا ایک مقبول آن لائن سیکیورٹی سروس ہے جسے مختلف ادارے اپنے اندرونی نظام تک رسائی محدود رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ صرف مجاز افراد ہی ان پلیٹ فارمز میں داخل ہوسکیں۔

تاہم اوکٹا کی ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کو ان دعوؤں کا علم ہے، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس کے اپنے ڈیٹا یا سسٹمز کو ہیک کیا گیا ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف پیس کے ترجمان نے اپنے بیان میں امریکی وزیر ہوم لینڈ سیکیورٹی مارک وین مولن کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 17 جولائی کو کہا تھا کہ وہ دباؤ بڑھا رہے ہیں اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ریکارڈ تک رسائی اسی کا ردعمل ہے۔ واضح رہے کہ مولن نے مارچ میں وزیر ہوم لینڈ سیکیورٹی کا منصب سنبھالا تھا۔

امریکی سرکاری اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ

حالیہ ہفتوں کے دوران امریکی سرکاری اداروں کو سائبر حملوں اور ڈیٹا لیک کے متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ ماہ ’شائنی ہنٹرز‘ نامی گروپ نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو نشانہ بنایا تھا اور ہزاروں اہلکاروں کی ذاتی معلومات حاصل کرلی تھیں۔

اسی طرح گزشتہ چند روز کے دوران امریکی فیڈرل الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ بھی مبینہ ہیکنگ کی کوشش کے باعث آف لائن ہوگئی۔ یہ ادارہ سیاسی انتخابی مہمات کے لیے دیے جانے والے عطیات کا ریکارڈ عوام کے لیے جاری کرتا ہے۔

امریکی امیگریشن پالیسی اور آئی سی ای اہلکاروں پر تنقید

امریکا میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کرنے والے اداروں، خصوصاً آئی سی ای، کے خلاف عوامی ردعمل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیرقانونی طور پر ملک میں موجود ہونے کے شبہے میں افراد کی گرفتاریوں اور ملک بدری کی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا: بھارتی نژاد سائبر سیکیورٹی چیف نے حساس ڈیٹا لیک کردیا

رپورٹ کے مطابق رواں سال امیگریشن آپریشنز کے دوران متعدد واقعات میں تشدد بھی دیکھنے میں آیا، جبکہ آئی سی ای اہلکاروں نے 2  درجن سے زائد افراد پر فائرنگ کی اور کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے۔

ان واقعات میں منی سوٹا میں الیکس پریٹی اور رینی گڈ کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں، جنہیں رواں سال آئی سی ای اہلکاروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا حالانکہ وہ گرفتاری کے لیے مطلوب افراد نہیں تھے۔

اکثر امیگریشن اہلکار کارروائیوں کے دوران ماسک اور دھوپ کے چشموں سے اپنے چہرے چھپاتے ہیں۔ وہ شاذونادر ہی اپنی شناخت ظاہر کرتے ہیں حالانکہ قانون کے تحت ان کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ امریکی سیاست دان بھی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سے اس قانونی تقاضے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: لیفٹینٹ جنرل ایم وی سُچندرا کمار کے خلاف انتہائی حساس ڈیٹا لیک کرنے پر اعلیٰ سطح تحقیقات کا آغاز

مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سنہ 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکا میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو ملک بدر کیا جاچکا ہے جن میں 70 فیصد سے زائد ایسے افراد ہیں جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp