ملازمین کی جانب سے غیر منظور شدہ ٹولز کا بے دریغ استعمال، ڈیٹا لیک ہونے کے سنگین خطرات

پیر 11 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کے غیر منظور شدہ ٹولز کا استعمال یعنی شیڈو اے آئی اس وقت کارپوریٹ امریکا اور عالمی کاروباری اداروں کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج بن چکا ہے۔

حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں کام کرنے والے تقریباً 71 فیصد ملازمین اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے کمپنی سے منظور شدہ پلیٹ فارمز کے بجائے ذاتی یا غیر منظور شدہ اے آئی ٹولز کا سہارا لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا زیادہ استعمال دماغ کو سست بنا رہا ہے، کن صلاحیتوں کو شدید خطرہ ہے؟

ماہرین اس صورتحال کو روایتی شیڈو آئی ٹی سے کہیں زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس میں ڈیٹا کے تحفظ اور کمپنی کی سیکیورٹی پالیسیوں پر کنٹرول مکمل طور پر ختم ہوتا جا رہا ہے۔

مائیکروسافٹ کی ایک حالیہ رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے 80 فیصد ملازمین اپنی سہولت کے مطابق ذاتی ٹولز کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس رجحان کی بنیادی وجہ ملازمین کی جانب سے کام کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ کرنا ہے جہاں ایک بائیوٹیک محقق نے اعتراف کیا کہ جس کام پر 150 گھنٹے درکار ہوتے تھے وہ اے آئی کی مدد سے محض 30 منٹ میں مکمل کرلیا گیا۔

تاہم اس طرح کی کارکردگی کے پیچھے ڈیٹا لیک ہونے کے بڑے خطرات چھپے ہوئے ہیں جیسا کہ ماضی میں سام سنگ اور ایمیزون جیسی عالمی کمپنیوں کے ساتھ ہوا جب ان کے انجینئرز نے حساس کوڈ اور اندرونی دستاویزات عوامی اے آئی پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کیں جس کے نتیجے میں کمپنی کا خفیہ ڈیٹا ظاہر ہونے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا اوپن اے آئی پر مقدمہ: چیٹ جی پی ٹی کی لانچنگ بنا مشاورت ہوئی، سابق رکن بورڈ

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی ایک ملازم کی جانب سے مالیاتی دستاویزات کو غیر منظور شدہ اے آئی پر اپ لوڈ کرنا پوری کمپنی کے لیے خاموش تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

فروری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق نصف سے زائد کمپنیوں کے سربراہان اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ ان کے ملازمین کس حد تک اور کون سے اے آئی ٹولز استعمال کررہے ہیں۔

 سروے میں بتایا گیا ہے کہ صرف 40 فیصد کمپنیوں کے پاس اے آئی کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ ضابطہ اخلاق موجود ہے جبکہ 90 فیصد آئی ٹی ماہرین رواں برس ان ٹولز کے بجٹ میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس معاملے میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے جہاں 80 فیصد ماہرین ملازمین کی بہتر کارکردگی کو تسلیم کرتے ہیں وہیں 86 فیصد نے ان غیر منظور شدہ ٹولز کی وجہ سے سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں اور ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماضی کے لمحات تازہ کریں: اے آئی کے ذریعے اپنی کم عمری والی تصاویر بنائیں

ماہرین متنبہ کررہے ہیں کہ اے آئی کو اپنانے کی اس تیز رفتار دوڑ میں کمپنیاں حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کررہی ہیں جو آنے والے وقت میں بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp