امریکا میں تعلیمی پلیٹ فارم Canvas (LMS) کو ایک بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی ذمہ داری ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ہزاروں اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ طلبا کو پلیٹ فارم تک رسائی میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیں:تعلیمی ویب سائیٹ کینوس پر سائبر حملہ، ہزاروں اسکولوں، کالجوں اور جامعات کا نظام متاثر
رپورٹس کے مطابق یہ پلیٹ فارم، جو طلبا کی حاضری، گریڈز اور تعلیمی مواد کے لیے استعمال ہوتا ہے، گزشتہ دنوں دوپہر سے متاثر ہوا جس کے باعث فائنل امتحانات کے دوران طلبا اور ادارے مشکلات کا شکار ہوگئے۔
ہیکرز کے دعوے کے مطابق انہوں نے قریباً 8,809 تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 28 کروڑ سے زائد طلبا اور اسٹاف کے ریکارڈز تک رسائی حاصل کی ہے۔ متاثرہ اداروں میں ہارورڈ اور اسٹینفورڈ جیسی معروف جامعات بھی شامل بتائی جا رہی ہیں۔
پلیٹ فارم کی پیرنٹ کمپنی Instructure نے سائبر سیکیورٹی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صارف ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی ہوئی ہے، جس میں نام، ای میل ایڈریس، اسٹوڈنٹ آئی ڈیز اور اندرونی پیغامات شامل ہو سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق متاثرہ سسٹمز کو عارضی طور پر مینٹیننس موڈ میں ڈال دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جلد بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب شائنی ہنٹرز نے مبینہ طور پر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ادائیگی نہ کی گئی تو حساس ڈیٹا آن لائن لیک یا فروخت کیا جا سکتا ہے، جس کی آخری تاریخ 12 مئی بتائی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ سائبر کرائم کی ایک نئی اور خطرناک جہت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں صرف مالی نقصان نہیں بلکہ تعلیمی نظام، طلبا کی سرگرمیوں اور تحقیقی ڈیٹا کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔














