خزاں کا موسم آتے ہی درختوں کے پتے سبز رنگ چھوڑ کر زرد، سنہری، سرخ اور نارنجی رنگ اختیار کرنے لگتے ہیں۔ ٹھنڈی صبحیں، درختوں سے گرتے خشک پتے اور بدلتے موسم کے دلکش مناظر اس موسم کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ اب خزاں پہلے جیسی نہیں رہی؟ کیا موسم خزاں کی وہ رنگین رونق واقعی کم ہوتی جا رہی ہے یا یہ محض ہماری یادداشت کا دھوکا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ایف نائن پارک میں ایک بھی درخت نہیں کٹے گا، کنکریٹ اسٹرکچر نہیں بنائیں گے، محسن نقوی کا اعلان
برطانیہ میں بھی رواں سال موسم خزاں کے دوران کچھ ایسے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وہاں ایک طویل اور غیرمعمولی طور پر گرم و خشک موسمِ گرما کے بعد بعض درختوں نے معمول کے وقت سے پہلے ہی اپنے پتے جھاڑنا شروع کردیے۔ ماہرین اسے ’فالس آٹم‘ یعنی ’جھوٹی خزاں‘ قرار دیتے ہیں، جس میں درخت سردیوں کی آمد کے بجائے پانی کی شدید کمی اور گرمی کے دباؤ سے بچنے کے لیے اپنے پتے گرانے لگتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ درختوں کو خزاں کے دوران سرخ، نارنجی اور سنہری رنگوں میں تبدیل ہونے کا معمول کا وقت نہیں ملتا اور بعض مقامات پر موسم کی وہ خوبصورتی دکھائی نہیں دیتی جس کے لیے خزاں مشہور ہے۔
درخت موسمِ خزاں میں پتے کیوں گراتے ہیں؟
ایکسٹر یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ماحولیات پروفیسر ڈین بیبر کے مطابق درختوں کی مختلف اقسام سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں۔
چیڑ جیسے سدا بہار درخت سردیوں میں بھی اپنے پتے برقرار رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے درخت، جنہیں پت جھڑ والے درخت کہا جاتا ہے، درجہ حرارت کم ہونے اور دن چھوٹے ہونے کے ساتھ اپنے پتے گرا دیتے ہیں۔
ان درختوں کے لیے پتے برقرار رکھنا سردیوں میں توانائی اور پانی کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے وہ پتے گرانے سے پہلے ان میں موجود اہم غذائی اجزا دوبارہ اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں اور بہار آنے تک آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیے: قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
پروفیسر بیبر درختوں کو ایک ایسے نظام سے تشبیہ دیتے ہیں جو سورج کی توانائی سے چلنے والے پانی کے فوارے کی طرح کام کرتا ہے۔ درخت مسلسل زمین سے پانی جذب کرتے ہیں اور اسے پتوں تک پہنچاتے ہیں جہاں ضیائی تالیف کے ذریعے خوراک تیار ہوتی ہے۔
لیکن جب زمین میں پانی کی مقدار کم ہوجائے تو درخت دباؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ آیا پانی کی کمی کے باوجود پتے برقرار رکھے جائیں یا انہیں گرا کر مزید نقصان سے بچا جائے۔
جھوٹی خزاں کیا ہوتی ہے اور اس میں کیا فرق ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق شدید گرمی اور خشک سالی بعض درختوں کو وقت سے پہلے پتے گرانے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس عمل کو جھوٹی خزاں کہا جاتا ہے کیونکہ بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے موسمِ خزاں آگیا ہو، لیکن حقیقت میں درخت موسم کی تبدیلی کے بجائے پانی کی قلت سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
پروفیسر بیبر کے مطابق اس طرح پتے گرنے کی صورت میں ان کے رنگ عموماً اتنے شوخ اور دلکش نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درختوں کو پتوں میں موجود غذائی اجزا دوبارہ جذب کرنے اور رنگوں کی قدرتی تبدیلی کے معمول کے عمل کے لیے مناسب وقت نہیں ملتا۔
عام حالات میں جب خزاں آتی ہے تو درخت پتوں میں موجود سبز رنگ کے مادے یعنی کلوروفل کو بتدریج ختم کرتے ہیں۔ اس کے بعد پتوں میں موجود دوسرے رنگ نمایاں ہونے لگتے ہیں جس سے زرد، نارنجی اور بعض درختوں میں سرخ رنگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’پولیس سے بچا کھجور میں اٹکا‘: ضدی ملزم کو پکڑنے کے لیے درخت کاٹنا پڑگیا
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خزاں کے رنگ مکمل طور پر ختم ہو رہے ہیں۔ اگر موسم اور پانی کی دستیابی مناسب ہو تو درخت معمول کے مطابق اپنے رنگ بدلتے ہیں اور خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک ہی قسم کے درختوں کے بڑے جھنڈ میں یہ رنگ زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
کیا واقعی خزاں کا موسم پہلے جیسا نہیں رہا؟
برطانیہ میں جنگلی حیات کی فوٹوگرافر شیرون لیوی جو وورسٹر شائر میں کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ رواں سال درختوں پر خزاں کے روایتی رنگ نسبتاً دیر سے نمودار ہوئے۔
ان کے مطابق بعض سلور برچ درختوں نے گرمیوں ہی میں اپنے پتے گرانا شروع کردیے تھے۔ اگرچہ ان پر اب بھی کچھ پتے موجود ہیں لیکن ان کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہے اور وہ سرخ و نارنجی رنگ بھی کم دکھائی دے رہے ہیں جنہیں لوگ خزاں کی پہچان سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تقریباً 30 سال پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اس زمانے میں سردیاں زیادہ سخت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے اپنے بچے اب تیس کی دہائی میں ہیں لیکن انہوں نے وہ سخت سردیاں نہیں دیکھیں جو ان کی والدہ کے مطابق پہلے معمول کا حصہ تھیں۔
پروفیسر بیبر بھی اس احساس سے اتفاق کرتے ہیں کہ موسموں کی روایتی کیفیت میں تبدیلی آرہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ہالووین اور 5 نومبر کے موقع پر شدید سردی اور پالے کا سامنا کرنا عام بات تھی، جبکہ اب بعض اوقات ان دنوں میں بھی اتنی گرمی ہوتی ہے کہ لوگ ہلکے کپڑوں میں باہر نکل سکتے ہیں۔
تاہم وہ مستقبل کے موسموں کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم کے انداز تبدیل ہو رہے ہیں اور آنے والے وقت میں ان تبدیلیوں کی نوعیت کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔
ہر علاقے میں خزاں ایک ہی وقت پر نہیں آتی
برطانیہ کے جنگلات کے مختلف علاقوں سے ملنے والی معلومات بھی ظاہر کرتی ہیں کہ خزاں کے رنگ ہر جگہ ایک ہی وقت میں نمودار نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیے: رابن ہڈ سے منسوب ایک ہزار سال قدیم تاریخی بلوط کا درخت دم توڑ گیا
برطانیہ کے ادارے فارسٹری انگلینڈ کے ’آٹم لیف واچ‘ نامی نگرانی کے نظام کے مطابق ملک کے مختلف جنگلات میں پتوں کے رنگ بدلنے کی رفتار مختلف ہے۔ کہیں درخت سنہری اور نارنجی رنگ اختیار کرچکے ہیں تو کہیں اب بھی ان پر سبز پتے نمایاں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فرق کی وجہ مقامی موسم، علاقے کی بلندی اور درختوں کی اقسام ہیں۔ اس لیے صرف ایک علاقے کے مشاہدے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ پورے ملک میں خزاں کا موسم بدل گیا ہے۔
پاکستان میں خزاں اور بدلتے موسموں کا تعلق
پاکستان میں بھی موسمِ خزاں کے دوران درختوں کے پتے رنگ بدلتے اور جھڑتے ہیں۔ اسلام آباد، مری، گلیات، سوات، کشمیر اور شمالی علاقوں میں چنار، میپل اور دوسرے پت جھڑ والے درختوں کے پتے زرد، سرخ اور سنہری رنگ اختیار کرتے ہیں۔ خاص طور پر چنار کے درخت خزاں میں اپنی خوبصورت رنگت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ میدانی علاقوں میں بھی بعض درختوں کے پتے موسم ٹھنڈا ہونے کے ساتھ جھڑنے لگتے ہیں تاہم ہر علاقے میں یہ تبدیلی ایک جیسی نہیں ہوتی۔
پاکستان میں عموماً اکتوبر سے دسمبر کے دوران شمالی اور نسبتاً سرد علاقوں میں خزاں کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں درختوں کی اقسام کے لحاظ سے پت جھڑ کا وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ درجہ حرارت میں کمی، دن کی روشنی کے دورانیے اور پانی کی دستیابی کا درختوں کے اس قدرتی عمل سے گہرا تعلق ہے۔
البتہ اگر شدید گرمی یا طویل خشک سالی کے باعث درخت معمول سے پہلے پتے گرانے لگیں تو اسے بھی خزاں سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ پانی کی کمی اور ماحولیاتی دباؤ کی علامت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ درختوں کا وقت سے پہلے پتے گرانا ان کی صحت اور مستقبل میں نشوونما پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں موسم خزاں عموماً ستمبر سے نومبر تک رہتا ہے تاہم شمالی علاقہ جات میں اس موسم کے رنگ ستمبر کے اواخر سے ہی نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ ہنزہ، اسکردو اور گلگت کی وادیوں میں اکتوبر کے دوران چنار، چنار نما اور دوسرے پت جھڑ والے درخت زرد، سنہری اور سرخ رنگ اختیار کرلیتے ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں خزاں کی آمد نسبتاً آہستہ محسوس ہوتی ہے۔
شمالی علاقہ جات: گلگت بلتستان، ہنزہ، اسکردو اور وادیوں میں خزاں کے رنگ عموماً ستمبر کے آخری ہفتے سے نمودار ہونا شروع ہوتے ہیں۔ اکتوبر میں اپنے عروج پر پہنچتے ہیں اور نومبر کے آغاز تک کئی علاقوں میں برقرار رہتے ہیں۔
اسلام آباد، پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے
یہاں خزاں کا موسم عموماً اکتوبر اور نومبر میں محسوس ہوتا ہے۔ ستمبر میں گرمی اور حبس برقرار رہ سکتا ہے جبکہ اکتوبر سے درجہ حرارت بتدریج کم ہونے لگتا ہے۔
مزید پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟
سندھ میں عموماً خزاں کا موسم اکتوبر سے نومبر کے آخر تک رہتا ہے۔ ستمبر کے بعد مون سون کی بارشوں کا سلسلہ کم ہونے لگتا ہے اور اکتوبر میں موسم بتدریج خشک اور نسبتاً خوشگوار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ نومبر میں دن کا درجۂ حرارت کم ہونے لگتا ہے جبکہ راتیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ کراچی اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں گرمی کا اثر اندرون سندھ کے مقابلے میں کچھ زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
بلوچستان
بلوچستان میں خزاں کا دورانیہ علاقے کی بلندی اور جغرافیائی صورتِ حال کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ کوئٹہ، زیارت اور شمالی بلوچستان کے دیگر سرد علاقوں میں ستمبر کے آخر یا اکتوبر سے خزاں کا احساس نمایاں ہونے لگتا ہے اور نومبر تک سردی بڑھنے لگتی ہے۔
جبکہ مکران اور ساحلی بلوچستان میں موسم نسبتاً گرم رہتا ہے اور وہاں خزاں کی تبدیلی عموماً اکتوبر اور نومبر میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ مجموعی طور پر دونوں صوبوں میں خزاں کو اکتوبر اور نومبر کے مہینوں سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: رابن ہڈ سے منسوب ایک ہزار سال قدیم تاریخی بلوط کا درخت دم توڑ گیا
کوئٹہ اور دیگر نسبتاً سرد علاقوں میں موسم کی تبدیلی جلد محسوس ہوسکتی ہے جبکہ ساحلی علاقوں کا موسم مختلف رہتا ہے۔
اہم فرق
موسم خزاں کا کیلنڈری دورانیہ اور درختوں کے پتوں کے رنگ بدلنے کا وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شمالی پاکستان میں خزاں کے خوبصورت رنگوں کا بہترین وقت عموماً اکتوبر ہوتا ہے مگر موسم کی شدت کے باعث ہر سال اس میں کچھ فرق آسکتا ہے۔











