جینز کیا ہیں اور انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ بیماریوں سے لے کر ظاہری شکل تک کے اہم راز

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی بچے کی آنکھوں کا رنگ والدین جیسا کیوں ہوتا ہے؟ بعض بیماریاں ایک ہی خاندان میں نسل در نسل کیوں منتقل ہوتی رہتی ہیں جبکہ کچھ افراد میں ان بیماریوں کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب بڑی حد تک ہمارے جسم میں موجود جینز میں پوشیدہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی این اے کیا ہے اور یہ زندگی کا مکمل نقشہ کیسے محفوظ رکھتا ہے؟

جینز انسانی جسم کی نشوونما، جسمانی خصوصیات اور صحت سے متعلق معلومات کا بنیادی حصہ ہوتے ہیں۔ یہ طے کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں کہ ہمارے جسم کے خلیے کیسے کام کریں گے، بالوں اور آنکھوں کا رنگ کیسا ہوگا، جسم کی نشوونما کیسے ہوگی اور بعض بیماریوں کا خطرہ کتنا ہوسکتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق تمام انسانوں کا جینیاتی مواد تقریباً 99.9 فیصد ایک جیسا ہوتا ہے تاہم باقی معمولی فرق ہی لوگوں کی جسمانی خصوصیات اور بعض بیماریوں کے حوالے سے انفرادی اختلافات کی وجہ بنتے ہیں۔ بعض جینیاتی فرق والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں جبکہ کچھ کا تعلق ماحول اور طرزِ زندگی سے بھی ہوسکتا ہے۔

جینز کیا ہوتے ہیں؟

جینز دراصل ڈی این اے (ڈی آکسی رائبونیوکلک ایسڈ) کے مخصوص حصے ہوتے ہیں جن میں زندگی کی نشوونما اور جسمانی افعال سے متعلق حیاتیاتی ہدایات موجود ہوتی ہیں۔

ڈی این اے کو آپ جسم کے لیے ایک ایسی ہدایات کی کتاب سمجھ سکتے ہیں جس میں یہ معلومات درج ہوتی ہیں کہ خلیے کیسے بنیں گے، کیسے بڑھیں گے اور اپنے فرائض کیسے انجام دیں گے۔

ہمارے جسم کے بیشتر خلیوں کے مرکزے میں کروموسومز موجود ہوتے ہیں اور انہی کروموسومز پر جینز پائے جاتے ہیں۔ ہر جین میں موجود معلومات خلیوں کو مخصوص پروٹین بنانے کی ہدایت دیتی ہیں۔ یہ پروٹین جسم کے مختلف افعال انجام دینے کے ساتھ بالوں، آنکھوں اور جلد کے رنگ سمیت متعدد جسمانی خصوصیات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: جینیٹکس کی دنیا میں بڑی پیشرفت: گوگل ڈیپ مائنڈ نے انسانی ڈی این اے کی 9 ارب تبدیلیوں کی میپنگ کر لی

انسان اپنے جینز والدین سے وراثت میں حاصل کرتا ہے۔ عام طور پر ہر انسان کے جسم کے خلیوں میں 46 کروموسومز ہوتے ہیں، جو 23 جوڑوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ ان میں سے 23 کروموسومز ماں اور 23 باپ سے ملتے ہیں۔

ڈی این اے کن چیزوں سے بنتا ہے؟

ڈی این اے 4 بنیادی کیمیائی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں نیوکلیوٹائڈ بیسز کہا جاتا ہے۔ ان کے نام ایڈینین (اے)، سائٹوسین (سی)، گوانین (جی) اور تھائمین (ٹی) ہیں۔

یہ چاروں اجزا ایک مخصوص ترتیب سے جڑتے ہیں اور یہی ترتیب ڈی این اے میں موجود معلومات کا تعین کرتی ہے۔ ایڈینین ہمیشہ تھائمین کے ساتھ جبکہ سائٹوسین گوانین کے ساتھ جوڑا بناتا ہے۔

ان اجزا کی ترتیب میں تبدیلی سے جینیاتی ہدایات بھی تبدیل ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے درمیان ڈی این اے کی معمولی تبدیلیاں جسمانی خصوصیات میں فرق پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

پورے انسانی جینیاتی مواد جسے جینوم کہا جاتا ہے میں تقریباً 3 ارب بنیادی جوڑ موجود ہیں جبکہ انسانی جینوم میں پروٹین بنانے والے جینز کی تعداد تقریباً 20 ہزار ہے۔

جینز ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

جینز کا کردار صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کہ کسی شخص میں مخصوص بیماری پیدا ہونے کا امکان کتنا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئی وائرس یا جرثومہ نظروں سے اوجھل نہیں رہے گا؟ جینیاتی ٹیسٹنگ میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے بڑی پیشرفت

جینز میں تبدیلی کو میوٹیشن کہا جاتا ہے۔ بعض تبدیلیاں جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور ان کے نتیجے میں ایسے پروٹین بن سکتے ہیں جو درست طریقے سے کام نہیں کرتے۔ اس سے بعض موروثی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

مثال کے طور پر سِکل سیل انیمیا اور ہنٹنگٹن کی بیماری جینیاتی تبدیلیوں سے وابستہ ہیں۔ چونکہ جینز والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں، اس لیے بعض بیماریاں خاندانوں میں نسل در نسل بھی سامنے آتی ہیں۔

جینیاتی تبدیلیاں صرف وراثت کے ذریعے ہی نہیں ہوتیں بلکہ ماحول میں موجود بعض نقصان دہ کیمیائی مادوں اور زہریلے اثرات سے بھی ڈی این اے متاثر ہوسکتا ہے۔

جینز کی اقسام کیا ہیں؟

انسانی جسم میں موجود تمام جینز ایک جیسا کام نہیں کرتے۔ بعض جینز پروٹین بنانے کی ہدایات دیتے ہیں کچھ خلیوں کے اندر دوسرے جینز کی سرگرمی کو کنٹرول کرتے ہیں جبکہ بعض بنیادی جسمانی افعال برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

چند اہم اقسام

پروٹین بنانے والے جینز: یہ جینز پروٹین کی تیاری کے لیے ہدایات فراہم کرتے ہیں۔ جسم کے خلیوں میں ہونے والے بیشتر اہم افعال میں پروٹین کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔

نان کوڈنگ جینز: یہ براہِ راست پروٹین بنانے کی ہدایات نہیں دیتے بلکہ ایسے آر این اے مالیکیولز تیار کرتے ہیں جو خلیوں کے مختلف افعال اور پروٹین کی تیاری کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ہاؤس کیپنگ جینز: یہ جینز خلیوں کے بنیادی افعال، مثلاً توانائی کے استعمال اور مادّوں کے تبادلے جیسے عمل کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ریگولیٹری جینز: ان کا کام دوسرے جینز کی سرگرمی کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ یہ طے کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ کون سا جین کب فعال ہوگا اور کب غیر فعال رہے گا۔

غالب اور مغلوب جینز: بعض جینیاتی خصوصیات کے تعین میں غالب اور مغلوب جینز کا تصور اہم ہوتا ہے۔ غالب جینیاتی اثر بعض صورتوں میں صرف ایک نقل موجود ہونے پر بھی ظاہر ہوسکتا ہے جبکہ مغلوب خصوصیت عموماً اس وقت سامنے آتی ہے جب متعلقہ جین کی دونوں نقول موجود ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا ایک جین انسانی دماغ کی پیچیدہ صلاحیتوں کو تشکیل دیتا ہے؟، چینی سائنسدانوں نے اہم ترین راز جان لیا

مثال کے طور پر آنکھوں کے رنگ کو سمجھانے کے لیے اکثر بھورے رنگ کو غالب اور نیلے رنگ کو مغلوب کہا جاتا ہے تاہم حقیقت میں آنکھوں کا رنگ کئی جینز کے باہمی اثر سے طے ہوتا ہے اس لیے اس کی وراثت اتنی سادہ نہیں جتنی عام طور پر بیان کی جاتی ہے۔

ہیومن جینوم پروجیکٹ کیا تھا؟

جینز اور انسانی صحت کے تعلق کو سمجھنے کے لیے سائنس دانوں نے سنہ 1990 میں ایک بڑا عالمی تحقیقی منصوبہ شروع کیا جسے ہیومن جینوم پروجیکٹ کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد انسانی جینوم میں موجود تمام جینیاتی معلومات کی شناخت اور نقشہ بندی کرنا تھا تاکہ سائنس دان یہ سمجھ سکیں کہ مختلف جینز انسانی جسم اور بیماریوں پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ منصوبہ سنہ 2003 میں مکمل ہوا اور اس کے تحت حاصل ہونے والا ڈیٹا دنیا بھر کے محققین کے لیے مفت دستیاب کردیا گیا۔

اس تحقیق سے سائنس دانوں کو بیماریوں سے متعلق جینز کی شناخت، جینیاتی ٹیسٹوں کی تیاری اور نئی طبی و حیاتیاتی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مدد ملی۔ میڈیکل نیوز ٹوڈے کے مطابق 2015 تک اس تحقیق سے وابستہ پیش رفت میں بیماریوں کا سبب بننے والے 1800 سے زائد جینز کی شناخت اور 2 ہزار سے زیادہ جینیاتی ٹیسٹوں کی تیاری شامل تھی۔

جینیاتی ٹیسٹ کیا ہوتے ہیں اور ان سے کیا معلوم ہوسکتا ہے؟

جینیاتی ٹیسٹ کے ذریعے کسی شخص کے ڈی این اے کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اس میں کسی مخصوص موروثی بیماری سے وابستہ جینیاتی تبدیلی موجود ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: کیا انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوگا؟ عمر پلٹنے والی جین تھراپی کے تجربات شروع

یہ ٹیسٹ مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً پیدائش سے پہلے بچے میں بعض موروثی بیماریوں کی شناخت، نوزائیدہ میں ایسی بیماریوں کی جانچ جن کا بروقت علاج ممکن ہو، یہ معلوم کرنا کہ کوئی شخص کسی موروثی بیماری سے متعلق جین اپنے بچوں میں منتقل کرسکتا ہے یا نہیں، کسی فرد میں مخصوص بیماری پیدا ہونے کے جینیاتی خطرے کا اندازہ لگانا اور مریض کے لیے موزوں دوا اور اس کی مناسب مقدار کے انتخاب میں مدد دینا۔

جینیاتی ٹیسٹ کی ایک اہم قسم فارماکوجینومک ٹیسٹنگ ہے۔ اس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کسی شخص کے جینز مخصوص دوا پر اس کے جسم کے ردعمل کو کیسے متاثر کرسکتے ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر ڈاکٹر بعض اوقات دوا کے انتخاب یا اس کی خوراک کے بارے میں بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔

ایپی جینوم کیا ہے اور یہ جینز کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟

جینیات کی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ایپی جینوم کا تصور ہے۔ آسان الفاظ میں ایپی جینوم ایسے کیمیائی نشانات اور مرکبات کا نظام ہے جو ڈی این اے کی ترتیب تبدیل کیے بغیر جینز کے کام کرنے کے انداز پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ہمارے جسم کے مختلف خلیوں میں بنیادی جینیاتی مواد تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے، لیکن ان کے افعال مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر دماغ کے خلیے اور خون کے سرخ خلیے ایک جیسے کام نہیں کرتے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مختلف خلیوں میں مختلف جینز فعال یا غیر فعال ہوتے ہیں۔

ایپی جینوم ان جینز کو ضرورت کے مطابق فعال یا غیر فعال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ یوں ایک ہی ڈی این اے رکھنے والے خلیے مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔

کیا طرز زندگی جینز پر اثر انداز ہوسکتا ہے؟

تمباکو نوشی، خوراک، ماحولیاتی عوامل اور بعض انفیکشنز ایپی جینوم میں تبدیلیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں سے جینز کے فعال ہونے یا غیر فعال رہنے کے انداز پر اثر پڑسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: آپٹوجینیٹکس پر تحقیق، جرمن اور امریکی سائنسدان نوبیل انعام کے حقدار

بعض صورتوں میں ایسی تبدیلیاں نقصان دہ بھی ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کینسر کا تعلق صرف ڈی این اے میں تبدیلیوں سے نہیں بلکہ ایپی جینوم میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر خلیوں کی افزائش کو کنٹرول کرنے یا جسم کے مدافعتی نظام سے متعلق جینز کی سرگرمی متاثر ہوجائے تو خلیے بے قابو انداز میں بڑھ سکتے ہیں۔

سائنس دان اب بھی یہ تحقیق کررہے ہیں کہ ایپی جینوم میں موجود کیمیائی نشانات انسانی صحت اور بیماریوں میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

جین تھراپی کیا ہے؟

جین تھراپی جدید طب کی ایک ایسی تکنیک ہے جس میں بیماری کے علاج یا اس سے بچاؤ کے لیے مریض کے خلیوں میں جینیاتی مواد شامل کیا جاتا ہے۔

اس طریقے میں بعض اوقات خراب جین کی صحت مند نقل فراہم کی جاتی ہے یا ناقص جین کی جگہ درست جین پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ خلیے بہتر طریقے سے کام کرسکیں۔

یہ شعبہ ابھی ترقی کے مراحل میں ہے، تاہم سائنس دان موروثی بیماریوں مثلاً ہیموفیلیا اور سِکل سیل بیماری کے علاج کے لیے جین تھراپی استعمال کررہے ہیں۔ بعض حاصل شدہ بیماریوں، مثلاً لیوکیمیا، کے علاج میں بھی اس تکنیک سے مدد لی جارہی ہے۔

کیا جینیاتی ٹیسٹ سے کینسر کا خطرہ معلوم ہوسکتا ہے؟

جینیاتی معلومات بعض بیماریوں کے خطرے کا اندازہ لگانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر بی آر سی اے ون نامی جین میں مخصوص نقصان دہ تبدیلیاں خواتین میں چھاتی کے سرطان کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔

جینیاتی ٹیسٹ کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کسی خاتون میں یہ تبدیلی موجود ہے یا نہیں۔ اگر کوئی خاتون ایسی تبدیلی کی حامل ہو تو اس کے ہر بچے میں یہ تبدیلی منتقل ہونے کا امکان 50 فیصد ہوتا ہے۔

تاہم کسی جینیاتی تبدیلی کا موجود ہونا لازمی طور پر اس بات کا مطلب نہیں کہ متعلقہ بیماری ضرور پیدا ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس حوالے سے ڈاکٹر کی رہنمائی اور مناسب نگرانی اہم ہوتی ہے۔

جینیاتی معلومات سے ہر مریض کا علاج کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

ہر شخص کا جسم ادویات پر ایک جیسا ردعمل نہیں دیتا۔ بعض افراد میں کوئی دوا مؤثر ثابت ہوتی ہے جبکہ دوسروں میں اس کے اثرات مختلف ہوسکتے ہیں یا مضر اثرات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انسانوں کے ڈی این اے میں ایلینز کے جینز شامل ہوچکے، امریکی محقق کا دعویٰ

فارماکوجینیٹک ٹیسٹنگ کے ذریعے مریض کے جینز میں ایسی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جو دوا کے اثر یا اس کے ممکنہ مضر اثرات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ اس معلومات سے ڈاکٹر مریض کے لیے مناسب دوا اور خوراک منتخب کرنے میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

جینز ہماری زندگی کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

جینز والدین سے بچوں میں منتقل ہونے والی حیاتیاتی معلومات کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہ جسمانی خصوصیات سے لے کر بعض بیماریوں کے خطرے تک متعدد معاملات میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تاہم انسانی صحت اور شخصیت کا تعین صرف جینز سے نہیں ہوتا۔ ماحول، طرزِ زندگی، خوراک اور دیگر عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے جینیاتی معلومات کو بیماری کی حتمی پیشگوئی سمجھنے کے بجائے صحت کے خطرات کو سمجھنے اور بہتر طبی فیصلے کرنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیے: گل پلازہ آتشزدگی، 26 جاں بحق، 81 افراد لاپتا، لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے معائنے جاری

سائنس دان جینز، ایپی جینوم، جینیاتی ٹیسٹنگ اور جین تھراپی پر مسلسل تحقیق کررہے ہیں، جس سے مستقبل میں بیماریوں کی تشخیص، روک تھام اور علاج کے مزید بہتر طریقے سامنے آنے کی امید ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا