کیا انسان کبھی بوڑھا نہیں ہوگا؟ عمر پلٹنے والی جین تھراپی کے تجربات شروع

بدھ 7 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی سائنسی پیشرفت نے انسانی عمر کو نمایاں طور پر بڑھانے کی امید پیدا کردی ہے، ہارورڈ کے محققین اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ایسی جینیاتی تھراپی کی انسانی آزمائش شروع کردی ہے جس کا مقصد خلیوں کی حیاتیاتی عمر کو پیچھے لے جانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کے وسط میں ہارورڈ سے وابستہ سائنسدان ڈیوڈ سنکلیئر کی شریک قائم کردہ کمپنی لائف بایوسائنسز نے ‘ای آر-100’ نامی جزوی خلیاتی ری پروگرامنگ تھراپی کی پہلی انسانی آزمائش شروع کی۔ اس علاج میں گلوکوما اور اعصابی نقصان کے شکار مریضوں کی آنکھوں میں مخصوص جینز داخل کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ جوان رہنا چاہتے ہیں؟ نئی سائنسی تحقیق نے بڑھاپا کم کرنے کا آسان راز بتا دیا

اس طریقہ علاج کا مقصد خلیوں کو مکمل طور پر اسٹیم سیلز میں تبدیل کیے بغیر ان کی حیاتیاتی عمر کو دوبارہ ترتیب دینا ہے۔ ابتدائی حفاظتی نتائج 2026 کے اختتام یا 2027 کے آغاز تک متوقع ہیں۔

سائنسدان ڈیوڈ سنکلیئر کا کہنا ہے کہ ممکن ہے 150 سال کی عمر تک پہنچنے والا پہلا انسان پہلے ہی دنیا میں موجود ہو، جبکہ ان کے مطابق مستقبل میں انسانی عمر کو دگنا کرنا بھی ممکن ہوسکتا ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by The UAE Times (@theuaetimesofficial)

ہارورڈ کے ایک اور معروف جینیاتی ماہر جارج چرچ کے مطابق انسانیت ‘طویل عمری کی رفتار’ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس مرحلے پر سائنس ہر گزرتے سال کے مقابلے میں صحت مند زندگی کا ایک سال یا اس سے زیادہ اضافی وقت فراہم کرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔

 ان کا خیال ہے کہ اگر موجودہ جینیاتی علاج انسانی آزمائشوں میں کامیاب رہے تو 2035 تک یہ مرحلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی بڑھاپا رک سکتا ہے؟ انسان پر پہلی اینٹی ایجنگ جین تھراپی نے سب کو چونکا دیا

مصنوعی ذہانت بھی اس شعبے میں تحقیق کو تیز کررہی ہے اور سائنسدان اسے جینیاتی مواد کو جسم تک پہنچانے کے زیادہ محفوظ طریقے اور خلیاتی دوبارہ پروگرامنگ کے لیے بہتر پروٹین تیار کرنے میں استعمال کررہے ہیں۔

جانوروں پر ہونے والی بعض تحقیقات میں بھی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ایک کمپنی کے مطابق مخصوص مدافعتی علاج اور انفرادی نوعیت کے اسٹیم سیلز کے امتزاج سے عمر رسیدہ چوہوں کی عمر دگنی ہوئی اور وہ زیادہ عرصے تک صحت مند بھی رہے۔

دیگر تحقیق میں مختلف ادویات کے امتزاج سے چوہوں کی عمر میں 30 فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریپامائسن سمیت مختلف مرکبات پر ہونے والی تحقیق میں بھی عمر بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ایک دوا ‘رینٹوسرٹب’ نے انسانوں پر ایک محدود آزمائش میں حیاتیاتی عمر سے متعلق بعض اشاریوں میں 3 سے 6 سال تک کمی ظاہر کی۔ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سیماگلوٹائڈ جیسی ادویات کے بارے میں بھی تحقیق جاری ہے کہ آیا وہ عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں کی اہم پیشرفت، بڑھاپا ماضی کا قصہ بننے کے قریب

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں انسانی لافانی زندگی ابھی بہت دور ہے۔ حادثات، نئی بیماریاں اور حیاتیاتی حدود، جن میں غیر منقسم خلیوں میں ڈی این اے کی تبدیلیاں بھی شامل ہیں، انسانی عمر کو لامحدود بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

اس کے باوجود 2025 اور 2026 میں ہونے والی پیشرفت نے عمر میں غیرمعمولی اضافے کے تصور کو محض سائنس فکشن سے نکال کر سائنسی تحقیق کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp