مفت کی چیز اور ہمارا اجتماعی شعور

جمعرات 5 نومبر 2026
author image

ندیا اطہر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹک ٹاکر مسٹر پتلو، جن کا اصل نام انصر محمود ہے، نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر نقد انعام، گاڑی اور موٹر سائیکلیں دیں گے۔ سوشل میڈیا پر یہ اعلان سن کر صرف سیالکوٹ سے ہی نہیں، بلکہ دوسرے شہروں سے بھی سینکڑوں افراد پنڈال میں پہنچ گئے؛ جہاں رش اور بھگدڑ کے دوران کچھ لوگ نیچے گرنے سے زخمی ہوئے اور 2 افراد کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

اس خبر کے وائرل ہونے کے بعد ہر کسی نے اس حادثے کو اپنے زاویے سے دیکھا۔ کسی نے مسٹر پتلو کو موردِ الزام ٹھہرایا اور کسی نے انتظامیہ کو، کسی کا زور وہاں آنے والوں پر ٹوٹا اور کسی نے لالچ کو وجہ قرار دیا۔ میرے خیال میں اس حادثے کی ذمہ داری ہمارے معاشرے میں پروان چڑھنے والی یہ سوچ ہے کہ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے؟

مسٹر پتلو کی مہندی پر ہونے والی بھگدڑ ایک واقعہ ہے، لیکن ایسا نہیں کہ اس سے پہلے یہاں ایسے واقعات نہیں ہوئے۔ پہلے، زیادہ اور سب حاصل کر لینے کی خواہش، بلکہ مفتے کی عادت ہمارے معاشرے کا مجموعی مزاج بن چکی ہے یا بنا دی گئی ہے۔

یہ بھگدڑ مجھے کچھ سال پیچھے لے گئی، جب احمد پور شرقیہ کے قریب 50 ہزار لیٹر پیٹرول لے جانے والا آئل ٹینکر الٹ گیا تھا اور وہاں پہنچنے والی انتظامیہ اور پولیس کے روکنے کے باوجود لوگ پیٹرول بھرتے رہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ مفت پیٹرول جمع کر لینا چاہتے تھے اور پھر ٹینکر کو آگ لگ گئی اور 200 سے زیادہ افراد جل گئے۔

معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ جون 2024 میں فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں کی سڑک پر کوک سپلائی کرنے والے ایک ٹرک کو حادثہ پیش آیا تو پولیس کے پہنچنے سے پہلے وہ ٹرک خالی ہو چکا تھا، کیونکہ مقامی آبادی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، بوتلیں اور کارٹن اٹھا کر لے گئے تھے۔

کیا اس رویے کو غربت، معاشی تنگ دستی اور محرومی کے کھاتے میں ڈالنا درست ہے یا اس رویے پر ایک بامقصد سماجی بحث کی ضرورت ہے؟ میرے خیال میں یہ محض غربت کا معاملہ نہیں۔ غربت ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے لیکن یہاں معاملہ اجتماعی رویے، لالچ، قانون کے احترام اور بنیادی سماجی شعور کا بھی ہے۔

ہم کب تک ہر اجتماعی بدانتظامی اور غیر ذمہ داری کا جواز معاشی محرومی کو بناتے رہیں گے؟ کیا معاشی محرومی قانون شکنی، لوٹ کھسوٹ اور بدنظمی کی اجازت دیتی ہے؟

ہم نے اپنی اجتماعی نفسیات کو اس مقام تک کیوں پہنچا دیا ہے کہ چند لمحوں کے فائدے کے لیے عقل، تہذیب اور اپنی جان تک داؤ پر لگا دیتے ہیں؟ کیوں معاشرتی آداب اور سماجی اخلاقیات کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے؟

اس کی وجہ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ ہے، تعلیم کی کمی ہے یا صرف معاشی محرومی جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اتنا محدود کر دیتی ہے کہ اخلاقی اقدار ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔

یہ لالچ کبھی پیٹرول کی شکل میں سڑک پر بکھرا ہوتا ہے تو کبھی ٹی وی اسکرین پر انعام کی شکل میں۔ انسانی سمجھ بوجھ اسے خوددار بناتی ہے اور وہ معاشی محرومی کے باوجود ہر چمکتی چیز کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ لیکن آج میڈیا کی چکاچوند اور سوشل میڈیا کی رونقوں نے ہر انسان کو بس ایک دوڑ میں لگا دیا ہے جہاں پیسہ، سہولیات اور آسائشیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر فیملی ولاگز ہوں یا بےہنگم اچھل کود، سب کا مقصد بس پیسہ ہے۔

اس میں جیتو پاکستان جیسے شوز کا بھی بہت ہاتھ ہے جہاں بےمقصد سوالات اور عجیب و غریب حرکتوں کے بدلے انعامات حاصل کرنے کی دوڑ میں عزتِ نفس کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ جہاں سماجی شعور اور انسانی وقار ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد میڈیا اور سوشل میڈیا پر کچھ دن شور مچانے کے بعد کسی نئے حادثے کے پیچھے وائرل ہونے یا ریٹنگ لینے کی دوڑ میں ہی لگے رہنا ہے یا سماجی رویوں کی بہتری کے لیے کچھ سنجیدہ کوشش بھی کرنی ہے۔

چند لٹر پیٹرول، کچھ کارٹن، انعامات کا لالچ اور مفت کی چیزیں؛ اسے کامیابی یا ذہانت سمجھ لینا ہی معاشرتی اقدار کی تنزلی ہے۔ اس اجتماعی رویے کو بہتر بنانے اور اس سماجی انحطاط کو روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ اپنے بچوں کو ایک بہتر معاشرہ دیا جا سکے ورنہ ہم چوبیس کروڑ کا بےہنگم ہجوم بن کر رہ جائیں گے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہو گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

لاہور شاہی قلعہ: میں اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی ٹرائل اوپننگ

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، بورڈ آف گورنرز کی سربراہی ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو دینے پر غور

بحریہ ٹاؤن پشاور کیس میں اہم پیشرفت، 6 ارب 40 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد کرنے کی توثیق

کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح: اتنی برق رفتاری کسی منصوبے میں نہیں دیکھی، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟