تھل کی ریت پر سجے رنگ، جیپ ریلی اور ثقافت کے چار روزہ جشن کا آغاز

جمعرات 5 نومبر 2026
author image

ماجد رندھاوا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صحرائے تھل کی سنہری ریت پر ایک بار پھر جوش، جذبے، ثقافت اور تفریح کے رنگ بکھرنے لگے ہیں۔ تھل کی خاموش ریت میں طاقتور انجنوں کی گونج سنائی دینے لگی ہے، کہیں جیپوں کی رفتار کے چرچے ہیں تو کہیں ثقافتی دھنوں، روایتی اشیاء اور رنگا رنگ اسٹالز نے میلے کی رونقیں دوبالا کر دی ہیں۔

لیہ کے علاقے چوبارہ میں تھل جیپ ریلی اور تھل میلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جو آئندہ چار روز تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر ایسا سماں دیکھنے کو مل رہا ہے جیسے صحرائے تھل میں جنگل میں منگل ہو گیا ہو۔

ڈپٹی کمشنر لیہ آصف علی ڈوگر نے فیتہ کاٹ کر تھل جیپ ریلی اور تھل میلے کی تقریبات کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب کے ساتھ ہی صحرائے تھل میں چار روزہ سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جس میں ملک بھر سے آنے والے ریسرز، سیاحوں، شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی دلچسپی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔

اس مرتبہ بھی تھل کی ریت پر رفتار کے مقابلے اور ثقافتی سرگرمیوں کا منفرد امتزاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تھل جیپ ریلی اس ایونٹ کی سب سے بڑی توجہ کا مرکز ہے۔ دو سو کلومیٹر طویل دشوار گزار ٹریک پر سو سے زائد ریسرز اپنی مہارت، تجربے اور ڈرائیونگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ صحرائی ریت کے اونچے نیچے ٹیلے، نرم ریت، دشوار گزار راستے اور قدرتی چیلنجز ڈرائیورز کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔

یہی وہ خصوصیت ہے جو تھل جیپ ریلی کو دیگر موٹر اسپورٹس مقابلوں سے منفرد بناتی ہے۔ ریسرز کے لیے یہ صرف رفتار کی جنگ نہیں بلکہ حوصلے، مہارت، برداشت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا امتحان بھی ہے۔ تھل جیپ ریلی نے گزشتہ برسوں میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ اب یہ محض گاڑیوں کی دوڑ نہیں رہی بلکہ تھل کے وسیع صحرائی خطے کو ملکی سطح پر متعارف کرانے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے ریسرز اور سیاح جب یہاں پہنچتے ہیں تو انہیں تھل کی جغرافیائی خوبصورتی، مقامی لوگوں کی مہمان نوازی اور اس خطے کی منفرد ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس چار روزہ میلے کی خوبصورتی صرف جیپ ریلی تک محدود نہیں، بلکہ یہاں لگائے گئے مختلف اسٹالز نے بھی شہریوں اور سیاحوں کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔ کہیں مقامی ثقافت کی عکاسی کرتے رنگا رنگ اسٹالز موجود ہیں تو کہیں روایتی اشیاء، دستکاری اور روزمرہ استعمال کی مصنوعات فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔

شہری نہ صرف ان اسٹالز کا رخ کر رہے ہیں بلکہ خریداری میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ مختلف اسٹالز پر لوگوں کی آمدورفت اور خریداری کا سلسلہ میلے کی رونقوں میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ثقافتی اسٹالز اس میلے کا ایک اہم اور دلکش پہلو ہیں، جہاں تھل کی روایات، رہن سہن، مقامی ہنر اور ثقافتی ورثے کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔

تھل کی ثقافت اپنے مخصوص لباس، روایتی اشیاء، دستکاری اور مہمان نوازی کے باعث ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایسے میلوں میں مقامی ثقافت کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے اور نئی نسل کو اپنے علاقے کی روایات اور تاریخی ورثے سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھل میلہ تفریح کے ساتھ ساتھ ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے کا بھی ایک خوبصورت ذریعہ بن رہا ہے۔

میلے میں لگائے گئے اسٹالز مقامی کاروبار اور چھوٹے تاجروں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے مواقع پر انہیں اپنی مصنوعات لوگوں تک پہنچانے، خریداروں سے رابطہ قائم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے۔ اگر ان میلوں کو تسلسل کے ساتھ فروغ دیا جائے تو مقامی ہنرمندوں، دستکاروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

تھل جیپ ریلی کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ لیہ کے سیاحتی امکانات کو اجاگر کرتی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے آنے والے افراد جب تھل کے صحرائی مناظر، ریت کے بلند ٹیلوں اور یہاں کے منفرد ماحول سے روشناس ہوتے ہیں تو اس خطے کے بارے میں ان کی دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے۔

لیہ کی سرزمین قدرتی حسن، تاریخی اہمیت اور ثقافتی روایات سے مالا مال ہے، تاہم اسے قومی سطح پر مزید متعارف کرانے کے لیے ایسے ایونٹس اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں مقامی آبادی کے لیے بھی خوشی اور جوش کا باعث ہیں۔ میلے کے میدان میں بچوں، نوجوانوں، بزرگوں اور خاندانوں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ تفریحی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔

چار روز تک جاری رہنے والی تقریبات کے دوران شہریوں کو ایک ایسا ماحول میسر آئے گا جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزار سکیں گے اور صحرائے تھل کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تھل جیپ ریلی کو محض ایک سالانہ تفریحی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے باقاعدہ سیاحتی برانڈ کے طور پر فروغ دیا جائے۔

مقامی ثقافت، دستکاری، زراعت، لائیو اسٹاک، روایتی کھانوں اور تھل کی قدرتی خوبصورتی کو بھی اس ایونٹ کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کو تھل کے مختلف رنگ دیکھنے کا موقع مل سکے۔ اس سے نہ صرف لیہ کی شناخت مضبوط ہو گی بلکہ مقامی معیشت اور سیاحت کو بھی نئی جہت مل سکتی ہے۔

بلاشبہ تھل جیپ ریلی اور تھل میلہ لیہ کے لیے ایک اہم اور خوش آئند سرگرمی ہے۔ دو سو کلومیٹر کے دشوار گزار ٹریک پر سو سے زائد ریسرز کی شرکت، ثقافتی اسٹالز کی رونقیں، شہریوں کی دلچسپی اور چار روزہ تقریبات اس ایونٹ کو ایک بڑے جشن کی شکل دے رہی ہیں۔

صحرائے تھل کی ریت پر رفتار کے مقابلے جاری ہیں اور دوسری جانب ثقافت، روایت اور تفریح کے رنگ بکھر رہے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ تھل صرف ریت کے ٹیلوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک زندہ ثقافت، مضبوط روایات اور بے پناہ سیاحتی امکانات رکھنے والی دھرتی ہے۔ تھل کی ریت پر سجے یہ رنگ صرف چار روزہ میلے کی رونق نہیں بلکہ لیہ کی پہچان، ثقافت اور روشن سیاحتی مستقبل کی ایک خوبصورت تصویر ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹر تربیلا کا دورہ، خصوصی آپریشنز کی صلاحیتوں کا جائزہ

لاہور شاہی قلعہ: میں اکبری گیٹ اور کیوریٹر ہاؤس کی ٹرائل اوپننگ

خیبرپختونخوا کے ایم ٹی آئی اسپتالوں میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، بورڈ آف گورنرز کی سربراہی ریٹائرڈ ڈاکٹروں کو دینے پر غور

بحریہ ٹاؤن پشاور کیس میں اہم پیشرفت، 6 ارب 40 کروڑ روپے کی جائیداد منجمد کرنے کی توثیق

کشمیر چوک انڈر پاس کا افتتاح: اتنی برق رفتاری کسی منصوبے میں نہیں دیکھی، وزیراعظم شہباز شریف

ویڈیو

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟