پاکستان میں ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے فروغ، سرحد پار ادائیگیوں کو مؤثر بنانے اور سالانہ 40 ارب ڈالر سے زائد ترسیلات زر کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی ادائیگیوں کی کمپنی ماسٹرکارڈ کے ساتھ تعاون کے امکانات پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے ماسٹرکارڈ کے ڈویژنل صدر مارک ایلیٹ سے ملاقات میں ڈیجیٹل اثاثہ جات، بلاک چین ٹیکنالوجی اور مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین پاکستان کے مالیاتی نظام میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں، بلال بن ثاقب
ملاقات میں سرحد پار ادائیگیوں، ترسیلات زر کے نظام میں بہتری، ڈیجیٹل اثاثہ جات کے بنیادی ڈھانچے، مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور پاکستان کے مالیاتی شعبے کے استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں روایتی مالیاتی نظام اور جدید ڈیجیٹل اثاثہ جات کی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
PVARA Chairman Bilal Bin Saqib met with Mark Elliott, Mastercard’s Division President for East Arabia, to discuss opportunities in regulated digital assets, cross-border remittances, tokenisation and next-generation financial infrastructure. pic.twitter.com/hOUolte1bA
— Pakistan Virtual Assets Regulatory Authority (@PakistanVARA) November 5, 2026
اس موقع پر بلاک چین پر مبنی جدید مالیاتی نظام کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کے ذریعے مالیاتی خدمات کو مزید مؤثر اور قابل رسائی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ملاقات کے دوران سرحد پار ادائیگیوں کو تیز اور آسان بنانے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے نظام کو بہتر بنانے، مالیاتی اثاثوں کی ذمہ دارانہ ٹوکنائزیشن اور جدید مالیاتی خدمات تک عوام کی رسائی بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ پاکستان کو سالانہ 40 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں، جبکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت سے ترسیلات زر 50 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئی
’جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال سے نہ صرف قومی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، فری لانسرز اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے بھی نئے معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔‘
دونوں جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، سائبر سیکیورٹی، مالیاتی شفافیت اور مالیاتی نظام کے تحفظ سے متعلق عالمی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام کا مستقبل کا بنیادی ڈھانچہ اس وقت تشکیل پا رہا ہے اور پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ محض اس تبدیلی کا حصہ بننے کے بجائے اس کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔
مزید پڑھیں: سرحد پار ڈیجیٹل مالیاتی نظام: پاکستان اور امریکی کمپنی میں تعاون کا آغاز
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اولین ترجیح ٹیکنالوجی اور جدت کو عوام، کاروباری اداروں اور مجموعی قومی معیشت کے لیے حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ہے۔
بلال بن ثاقب کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل کا مالیاتی نظام مستحکم مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ریگولیٹری حکام کے درمیان مؤثر تعاون پر منحصر ہوگا۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ ملاقات پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے عالمی اداروں کے ساتھ روابط بڑھانے، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور ملک میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے شفاف، محفوظ اور جدت دوست ریگولیٹری ماحول تشکیل دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔











