ایک برطانوی خاندان میں اس وقت وراثت کا غیر معمولی تنازع کھڑا ہوگیا جب تین بہن بھائیوں کو انکشاف ہوا کہ ان کے مرحوم والد نے اپنی اہلیہ اور خاندان سے چھپا کر کئی دہائیوں تک ایک دوسری خاتون سے تعلق قائم رکھا اور اس تعلق سے ان کے دو بچے بھی تھے۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد دو بیٹوں کو مجموعی طور پر 1 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ اضافی دینے کا حکم دے دیا تاہم والد کے پانچوں حقیقی بچوں کا وراثت میں حصہ برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے ممبئی میں کتنے کروڑ کی جائیدادیں خرید لیں؟
برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق مائیکل گائمر (Michael Gymer) 2020 میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ جولی چند ماہ قبل 81 سال کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔ جوڑے کے تین بچے شیلی، گریگوری اور لی تھے۔
والد کی وفات سے کچھ عرصہ قبل تینوں بہن بھائیوں کو معلوم ہوا کہ ان کے والد کا بیورلی میڈن نامی خاتون سے کئی دہائیوں پر محیط خفیہ تعلق تھا جس سے ان کے دو بچے شارلٹ اور جوزف بھی پیدا ہوئے۔ اس انکشاف کے بعد خاندان کے پانچوں بچوں کے درمیان پہلی مرتبہ رابطہ ہوا اور تقریباً 4 لاکھ 61 ہزار پاؤنڈ مالیت کی وراثت کی تقسیم پر تنازع شروع ہوگیا۔
وراثت کی مساوی تقسیم پر اعتراض
مائیکل اور جولی دونوں نے کوئی وصیت نہیں چھوڑی تھی، جس کے باعث انگلینڈ اور ویلز کے وراثتی قوانین کے تحت والد کی وفات کے بعد ان کی جائیداد پانچوں بچوں میں برابر تقسیم ہونا تھی۔ ابتدائی حساب کے مطابق ہر بچے کو تقریباً 92 ہزار 350 پاؤنڈ ملنے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، خاتون کو نصف صدی بعد وراثتی جائیداد ملے گی
تاہم، گریگوری اور لی نے اس تقسیم کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ والد کی جائیداد کا ایک بڑا حصہ دراصل ان کی مرحوم والدہ کی کمائی اور وراثتی اثاثوں پر مشتمل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ کو شوہر کے خفیہ تعلق اور دوسرے خاندان کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا، اس لیے ان کی جمع پونجی سے ایسے بچوں کو فائدہ پہنچنا ناانصافی ہے جنہیں وہ جانتی تک نہیں تھیں۔
عدالت نے والدہ سے لاعلمی کے دعوے کو درست قرار دیا
مقدمے کے دوران شارلٹ اور جوزف نے دعویٰ کیا کہ جولی اپنے شوہر کے دوسرے تعلق سے واقف تھیں اور انہوں نے ان بچوں کے وراثت میں حصے کو بھی قبول کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے 2 اہم فیصلے: خلع کا حق آئینی قرار، جعلی نکاح نامے سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش ناکام
تاہم، عدالت نے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہ ملنے پر اسے مسترد کردیا۔ جج نے بیورلی میڈن کے اس بیان پر بھی اعتماد نہیں کیا کہ جولی کو اس تعلق کا علم تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پانچوں بچے اپنے والد کے خفیہ تعلق اور دھوکے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ تنازع کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کیا وراثت کی مساوی تقسیم کے ذریعے گریگوری اور لی کی مالی ضروریات کا مناسب خیال رکھا گیا تھا یا نہیں۔
عدالت کا دو بھائیوں کے حق میں فیصلہ
گریگوری اور لی نے برطانیہ کے قانونِ وراثت و مالی کفالت (Inheritance (Provision for Family and Dependants) Act 1975) کے تحت عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس قانون کے تحت اہل افراد وراثت کی تقسیم میں مناسب مالی سہولت نہ ملنے کی صورت میں عدالتی مداخلت کی درخواست دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امان اللہ کی جائیداد پر نوٹس، جے یو آئی کی تشویش پر حسن ہاشمی کے سوالات
عدالت نے پانچوں بچوں کے مالی حالات اور ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد حکم دیا کہ 1 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ جولی کی جائیداد میں واپس کیے جائیں اور یہ رقم گریگوری اور لی کے درمیان برابر تقسیم کی جائے۔
دونوں بھائیوں کو تقریباً 85 ہزار پاؤنڈ فی کس اضافی ملنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ان کی بہن شیلی کو اضافی رقم کا حقدار نہیں ٹھہرایا گیا کیونکہ عدالت کے مطابق اس کی مالی ضروریات دونوں بھائیوں جیسی نہیں تھیں۔
جائیداد کی نئی تقسیم
عدالتی فیصلے کے بعد 4 لاکھ 61 ہزار پاؤنڈ کی جائیداد کی متوقع تقسیم کے مطابق گریگوری اور لی کو تقریباً 1 لاکھ 43 ہزار پاؤنڈ فی کس ملنے تھے جبکہ شیلی، شارلٹ اور جوزف کو تقریباً 58 ہزار پاؤنڈ فی کس ملنے کی توقع تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں کمرشل پلاٹس کی نیلامی جاری، 2 روز میں 16.4 ارب روپے سے زیادہ کی جائیداد فروخت
اس طرح عدالت نے جہاں دونوں بھائیوں کی مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اضافی رقم دلائی، وہیں والد کے دوسرے تعلق سے پیدا ہونے والے دونوں بچوں کا وراثتی حق بھی برقرار رکھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقوم تخمینی ہیں اور جائیداد کی حتمی تقسیم سے متعلق تفصیلات بعد کے عدالتی حکم نامے میں طے ہونا تھیں۔











