ٹک ٹاک پر پابندی کی خبریں جعلی قرار، پی ٹی اے کی وضاحت

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی عائد کیے جانے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

پی ٹی اے نے جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی سے متعلق ایک جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی اطلاعات غلط اور گمراہ کن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ٹک ٹاک استعمال کرنے پر بھائی کے ہاتھوں 2 بہنیں قتل

پی ٹی اے نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کو نہ تو آگے پھیلائیں اور نہ ہی ان پر اعتبار کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ شہری مستند معلومات کے حصول کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نامناسب، غیر اخلاقی اور قابل اعتراض مواد کی شکایات پر ماضی میں ٹک ٹاک پر متعدد مرتبہ پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی، تاہم کمپنی کی جانب سے فحش مواد پھیلانے والے اکاؤنٹس کو بند کرنے کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

مارچ 2021 میں پشاور ہائیکورٹ نے بھی ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن پر پابندی عائد کی تھی، جسے بعدازاں اپریل میں ختم کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاک صارفین اب دوستوں کو پیغام کے ساتھ رقم بھی بھیج سکیں گے

اسی سال جون میں سندھ ہائیکورٹ نے بھی غیر اخلاقی اور فحش مواد پھیلانے کے الزام میں پی ٹی اے کو ملک بھر میں ٹک ٹاک تک رسائی معطل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم عدالت نے 3 روز بعد ہی یہ حکم واپس لے لیا تھا۔

جولائی 2021 میں پی ٹی اے نے نامناسب مواد کو پلیٹ فارم سے نہ ہٹانے پر ایک مرتبہ پھر ٹک ٹاک تک رسائی بند کر دی تھی۔

مزید پڑھیں: سیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، اموات کی تعداد 2 ہوگئی، 6 ملزمان گرفتار

اگست 2021 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کرنے کے پی ٹی اے کے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اسی منطق کے تحت ٹیلی کام اتھارٹی کو گوگل اور یوٹیوب جیسے دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی پابندی عائد کرنا پڑے گی۔

عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی تھی کہ وہ حکومت سے مشاورت کے بعد ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرے۔

بالآخر نومبر 2021 میں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے ایپلی کیشن پر غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی اپ لوڈنگ اور تشہیر کو کنٹرول کرنے کی یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے نے پابندی ختم کر دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp