فرانس میں مہنگائی، کم اجرت، پنشن اور تعلیمی سہولتوں کی کمی سمیت حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 75 ہزار افراد نے شرکت کی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو ہونے والے یہ مظاہرے ستمبر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی دن تھا۔
مظاہرے پیرس سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہوئے۔ ان میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹ ورکرز، ڈاکٹروں، فارماسسٹوں اور مختلف مزدور تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ احتجاجی تحریک میں ’یلو ویسٹ‘ کے نام سے معروف حکومت مخالف گروپ بھی شامل ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، دولت کی غیر مساوی تقسیم اور حکومت کی جانب سے عوامی مسائل پر عدم توجہی نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔
WATCH: Riot police fire tear gas and confront protesters in France as nationwide demonstrations escalate, prompting authorities to deploy 70,000 police officers across the country.
The Eiffel Tower is closed in Paris, a high school near Toulouse has been set on fire, and clashes… pic.twitter.com/SzDf9mtYvB
— Fox News (@FoxNews) November 5, 2026
مظاہروں کے باعث تعلیمی اداروں، ریلوے اور بعض دیگر شعبوں کا کام متاثر ہوا۔ حکومتی اندازے کے مطابق ملک کے تقریباً ایک تہائی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ اسکولوں کے 13 فیصد عملے نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ ریلوے کی بعض سروسز بھی متاثر ہوئیں، تاہم اسپتالوں میں کام معمول کے قریب رہا اور طبی خدمات میں کسی بڑی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی۔
احتجاجی دن مجموعی طور پر پُرامن رہا، تاہم رین، نانت، لیون اور مارسیل سمیت کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مجموعی طور پر 448 افراد کو حراست میں لیا۔ لیون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ رین میں ایک ہوٹل کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر اشیا پھینکنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں 86 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ تولوز کے قریب ایک اسکول کو آتش زنی سے شدید نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس میں سائبر حملوں سے خون ذخیرہ کرنے والے فریزر بھی متاثر
مزدور تنظیمیں کم از کم اجرت میں فوری طور پر 10 فیصد اضافے اور پنشن میں بہتری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ طلبہ تعلیمی بجٹ میں 10 ارب ڈالر سے زائد اضافے، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر اور یونیورسٹیوں میں ڈھائی لاکھ اضافی نشستیں چاہتے ہیں۔ یلو ویسٹ تحریک صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے اور نئے آئینی عمل کا مطالبہ کر رہی ہے۔
🚨 FRANCE IS COLLAPSING UNDER ITS OWN SOCIALISM
Hundreds of thousands protesting across the country (up to 700k expected). Started as student strikes over crumbling schools — now unions, yellow vests, and the left are demanding higher wages, more free stuff, and “better… pic.twitter.com/gp1p99z7Mh
— Gunther Eagleman™ (@GuntherEagleman) November 5, 2026
مظاہرین نے کرسمس تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ بعض گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک آئندہ موسمِ بہار میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔











