فرانس میں کئی برس کا سب سے بڑا احتجاج، لاکھوں افراد سڑکوں پر امڈ آئے، حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس میں مہنگائی، کم اجرت، پنشن اور تعلیمی سہولتوں کی کمی سمیت حکومتی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 5 لاکھ 75 ہزار افراد نے شرکت کی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو ہونے والے یہ مظاہرے ستمبر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے بعد اب تک کا سب سے بڑا احتجاجی دن تھا۔

مظاہرے پیرس سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہوئے۔ ان میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹ ورکرز، ڈاکٹروں، فارماسسٹوں اور مختلف مزدور تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ احتجاجی تحریک میں ’یلو ویسٹ‘ کے نام سے معروف حکومت مخالف گروپ بھی شامل ہے۔ شرکا کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، دولت کی غیر مساوی تقسیم اور حکومت کی جانب سے عوامی مسائل پر عدم توجہی نے انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔

 

مظاہروں کے باعث تعلیمی اداروں، ریلوے اور بعض دیگر شعبوں کا کام متاثر ہوا۔ حکومتی اندازے کے مطابق ملک کے تقریباً ایک تہائی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ اسکولوں کے 13 فیصد عملے نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ ریلوے کی بعض سروسز بھی متاثر ہوئیں، تاہم اسپتالوں میں کام معمول کے قریب رہا اور طبی خدمات میں کسی بڑی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی۔

احتجاجی دن مجموعی طور پر پُرامن رہا، تاہم رین، نانت، لیون اور مارسیل سمیت کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مجموعی طور پر 448 افراد کو حراست میں لیا۔ لیون میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی، جبکہ رین میں ایک ہوٹل کو نقصان پہنچانے اور پولیس پر اشیا پھینکنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں 86 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ تولوز کے قریب ایک اسکول کو آتش زنی سے شدید نقصان پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں:فرانس میں سائبر حملوں سے خون ذخیرہ کرنے والے فریزر بھی متاثر

مزدور تنظیمیں کم از کم اجرت میں فوری طور پر 10 فیصد اضافے اور پنشن میں بہتری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ طلبہ تعلیمی بجٹ میں 10 ارب ڈالر سے زائد اضافے، اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر اور یونیورسٹیوں میں ڈھائی لاکھ اضافی نشستیں چاہتے ہیں۔ یلو ویسٹ تحریک صدر ایمانوئل میکرون اور ان کی حکومت سے مستعفی ہونے اور نئے آئینی عمل کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مظاہرین نے کرسمس تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ بعض گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک آئندہ موسمِ بہار میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق اسکول ٹیچر چین کے نئے ارب پتی بن گئے، کمپنی کے حصص میں 787 فیصد اضافہ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں دھچکے کے بعد ٹرمپ کی شمالی کوریا سے دوبارہ رابطوں کی کوشش کا امکان

کیا آپ کا بچہ آپ سے دور ہورہا ہے؟ ماہرین نے خطرے کی ابتدائی نشانیاں بتادیں

کیا اب کمپیوٹر پر بھی مفت 4K ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے؟ انسٹاگرام نے بڑا سرپرائز دے دیا

عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھونچال، پاکستان اسٹاک ایکسچینج بھی دباؤ کا شکار

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟