امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں سیاسی دھچکا لگنے کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش تیز کرنے کا امکان ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس بار پیانگ یانگ کو مذاکرات کی میز پر لانا آسان نہیں ہوگا اور اس کے لیے واشنگٹن کو بڑی رعایتیں دینا پڑسکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایشیائی امور کے ماہرین اور حکام کا خیال ہے کہ داخلی محاذ پر مشکلات کے بعد ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے باقی 2 برسوں میں خارجہ پالیسی کے ذریعے اہم کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یوکرین اور ایران کی جنگوں کے خاتمے کے لیے کوششوں میں نمایاں پیشرفت نہ ہونے کے باعث ان کی توجہ ایشیا اور خصوصاً شمالی کوریا کی جانب مرکوز ہوسکتی ہے۔
Trump could woo North Korea after midterm setback, but Kim may not respond https://t.co/x80arft4en
— The Straits Times (@straits_times) November 6, 2026
ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں کم جونگ اُن سے 3 مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں۔ تاہم 2019 میں ویتنام کے شہر ہنوئی میں ہونے والی سربراہی ملاقات شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ناکام ہوگئی تھی۔
ماہرین کے مطابق اب صورتحال پہلے سے مختلف ہے۔ شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں نمایاں توسیع کی ہے، جبکہ روس اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات بھی مضبوط ہوئے ہیں۔ اس لیے کم جونگ اُن کے پاس مذاکرات کے لیے پہلے جیسی مجبوری نہیں رہی۔
جنوبی کوریا اور امریکی حکام کے مطابق رواں سال ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں۔ چین میں ہونے والی علاقائی سربراہی ملاقات سے قبل بھی واشنگٹن کو پیانگ یانگ کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری، شمالی کوریا پر شبہ
شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کم یو جونگ نے کہا ہے کہ مذاکرات امن کا راستہ ہوسکتے ہیں، تاہم ان کے بقول فی الحال شمالی کوریا کو بات چیت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کم جونگ اُن پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا نے ان کے ملک سے جوہری ہتھیار ترک کرنے کا مطالبہ چھوڑ دیا تو مذاکرات ممکن ہیں۔
جنوبی کوریا اور جاپان ایسی کسی رعایت کے مخالف ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے شمالی کوریا کی جوہری حیثیت تسلیم کرلی تو ایشیا کا سیکیورٹی ماحول یکسر تبدیل ہوسکتا ہے۔











