ترک پارلیمنٹ نے جمعے کی صبح پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔ پارلیمنٹ کے 600 ارکان میں سے 279 نے معاہدے کے حق میں اور 119 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس پیشرفت سے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں ترکیہ کی جانب سے مملکت کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔
ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے کہا کہ یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا نہیں۔
#BREAKING: Turkish parliament approves Mecca Joint Defence Agreement which Türkiye, Saudi Arabia and Pakistan signed in August pic.twitter.com/uk0Sq4tBzx
— TRT World (@trtworld) November 5, 2026
یہ معاہدہ 7 اگست کو سعودی شہر مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کرکے طے کیا تھا۔ تینوں رہنماؤں نے اجتماعی سلامتی مضبوط بنانے، دفاعی تعاون بڑھانے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کا عزم ظاہر کیا تھا۔
معاہدے کی یادداشت کے مطابق اس میں ایسے علاقائی ممالک بھی شامل ہوسکتے ہیں جو بین الاقوامی قانون، علاقائی سالمیت، خودمختاری کی مساوات اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیں۔
معاہدے کے تحت اتحاد کا سیکریٹریٹ ریاض میں قائم ہوگا، جبکہ پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔ وہ تین سال کے لیے یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کی مثال ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
اتحاد کے وزرا کے اجلاس استنبول اور ریاض میں ہوچکے ہیں، جبکہ تینوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود نے گزشتہ ماہ تہران میں بھی بات چیت کی تھی، جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکی جنگ کے تناظر میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خدشات دور کرنا تھا۔
معاہدہ ابتدائی طور پر 10 سال کے لیے ہوگا، جس کے بعد کوئی بھی فریق علیحدگی اختیار کرنے کے لیے تین ماہ قبل نوٹس دینے کا پابند ہوگا۔











