فون ٹیپنگ اسکینڈل نے انڈونیشیا کی سیاست میں ہلچل مچادی، 4 پولیس افسران نامزد

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو کی مبینہ فون ٹیپنگ اور خفیہ نگرانی کے اسکینڈل میں پولیس نے ایک اور اعلیٰ افسر کو ملزم نامزد کردیا ہے، جس کے بعد مقدمے میں نامزد ملزمان کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔

اس معاملے نے صدر پرابوو اور ان کے پیش رو اور سابق سیاسی اتحادی جوکو ویدودو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی نمایاں کردیا ہے، جبکہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا میں زہریلے دھوئیں سے ایک ماہ میں 3,560 اموات

میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشی پولیس نے جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس میں سینیئر پولیس افسر کو، جس کی شناخت ابتدائی طور پر ایس یو کے نام سے ظاہر کی گئی، اس مقدمے کا چوتھا ملزم قرار دیا، مقامی ذرائع ابلاغ نے بعد میں اس افسر کی شناخت سلامیت اولیاندی کے نام سے کی۔

پولیس کے مطابق ایس یو 2010 سے 2019 تک انڈونیشیا کے کرمنل انویسٹی گیشن ایجنسی میں مانیٹرنگ چیف کے عہدے پر تعینات رہا، جبکہ 2021 سے 2026 تک اسی ادارے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونٹ کی سربراہی بھی کرتا رہا۔

تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ صدر کی خفیہ نگرانی کے لیے اسی افسر سے منظوری حاصل کی گئی تھی۔

سائبر کرائم یونٹ کے ڈائریکٹر سوہرمینتو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دیگر 2 ملزمان نے صدر کی فون ٹیپنگ شروع کرنے سے قبل ایس یو سے اجازت لی تھی۔

مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ سے فضائی آلودگی کا بحران، 2 لاکھ 77 ہزار سے زائد افراد متاثر

ان کے مطابق نگرانی سے متعلق ریکارڈ حذف کرنے سے پہلے بھی مذکورہ افسر کی منظوری حاصل کی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ صحت کی خرابی کے باعث ایس یو کو تاحال حراست میں نہیں لیا گیا۔

اس سے قبل منگل کو 3 اعلیٰ پولیس افسران کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سابق قومی پولیس سربراہ اور صدر پرابوو کے چیف آف اسٹاف لیستیو سگیت پرابوو بھی شامل ہیں، جنہیں سابق صدر جوکو ویدودو کا قریبی وفادار سمجھا جاتا ہے۔

پولیس تاحال اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ صدر کی مواصلاتی سرگرمیوں کی خفیہ نگرانی کی کوششوں کے پیچھے کون سے مقاصد کارفرما تھے۔

حکام اب تک 13 پولیس اہلکاروں اور جرائم و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 5 ماہرین سے پوچھ گچھ کرچکے ہیں۔ قومی پولیس سربراہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے۔

اس اسکینڈل کے باعث صدر پرابوو پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، انہیں پہلے ہی مہنگی عوامی فلاحی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی اور ملک کی تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے کم ہوتے اعتماد جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب جمعرات اور جمعہ کو دارالحکومت جکارتہ میں صورت حال بظاہر پُرسکون رہی، تاہم اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کیے گئے، شہر میں فوجی خیمے، بسیں اور محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھی دیکھے گئے۔

مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں مسافر فیری لاپتا، ایک شخص جاں بحق، 102 افراد کو بچا لیا گیا

پرابوو سوبیانتو نے 2024 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، وہ سابق صدر جوکو ویدودو کی پالیسیوں کے تسلسل کے امیدوار سمجھے جاتے تھے، ویدودو کے بیٹے گبران راکابومنگ راکا بھی پرابوو کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔

ادھر انڈونیشیا کے قانون ساز راکا کی بطور نائب صدر اہلیت کی تحقیقات پر بھی غور کررہے ہیں، اس معاملے میں ممکنہ پارلیمانی کارروائی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp