خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے جمعے کو بتایا کہ بیجنگ نے انٹارکٹیکا میں اپنی تحقیقی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور ان کی نگرانی مضبوط کرنے کے لیے قانون کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کا ’اسکائی آئی‘ سائنسی منصوبہ، دور افتادہ گاؤں سیاحت اور ترقی کا نیا مرکز بن گیا
نئے قانون کا مقصد چین کی سائنسی تحقیق کو فروغ دینے کے ساتھ انٹارکٹیکا میں قومی سرگرمیوں، اثاثوں اور دیگر مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
قانون کے تحت چین کی انٹارکٹیکا میں سرگرمیوں کے دوران جانوروں اور پودوں کا تحفظ، کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، سمندری آلودگی کی روک تھام اور ماحول پر منفی اثرات کو کم کرنا لازمی ہوگا۔
اس کے علاوہ انٹارکٹیکا میں چینی تحقیقی سرگرمیوں، سیاحت، جہاز رانی اور دیگر امور کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور سلامتی سمیت مختلف شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کے بارے میں انسانیت ایک بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہے، 178 دن خلا میں گزارنے والے سائنسدان کا انکشاف
چین گزشتہ دو سال سے انٹارکٹیکا میں فضائی ماحول کی نگرانی کا ایک مرکز بھی چلا رہا ہے، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے اور عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
امریکا کی طرح چین بھی انٹارکٹیکا اور آرکٹک میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے تاکہ قطبی علاقوں میں موجود وسائل کی تلاش اور سائنسی تحقیق کو وسعت دی جاسکے۔
چین انٹارکٹک معاہدے کا بھی رکن ہے، جس کے تحت انٹارکٹیکا کو سائنسی تحقیق کے لیے مخصوص علاقہ قرار دیا گیا ہے اور وہاں فوجی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں نے 9000 گھنٹے چلنے والی لیتھیئم بیٹری ایجاد کرلی
اس کے علاوہ چین 1991 کے ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکول کا بھی فریق ہے، جس کے تحت 50 سال کے لیے کان کنی اور تیل کی تلاش پر پابندی عائد کی گئی تھی۔











