پاک فوج کا دوٹوک مؤقف: ٹی ٹی پی میں بے چینی، دہشت گردوں کا سرغنہ نور ولی محسود روپوش

اتوار 16 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے دہشت گردوں کو واضح پیغام کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بزدل سرغنہ نور ولی محسود کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں اور وہ افغانستان میں چوہوں کی طرح چھپ گیا ہے۔

ٹی ٹی پی نے اپنے حالیہ بیانیے میں دہشت گرد نور ولی محسود سے ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ ایک طرف پاک فوج افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کمین گاہوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دے چکی ہے اور دوسری جانب افغان طالبان بھی ان کی غیر شرعی احکامات اور جرائم سے تنگ آچکے ہیں۔

افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو ان کارروائیوں کے بدلے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ اسی کے ساتھ ٹی ٹی پی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا بھی شکار ہے۔ ٹی ٹی پی کے مجاہدین اپنی قیادت کی جرائم پیشہ سر گرمیوں سے مایوس ہو کر راہیں جدا کر رہے ہیں۔

مایوس کن صورتِ حال میں دہشت گرد سرغنہ نور ولی محسود اپنی جان بچانے کی خاطر چھپتا پھر رہا ہے اور اپنے ساتھیوں سے ملاقاتوں سے بھی گھبرا رہا ہے۔ مگر یہ دہشت گرد اب زیادہ دیر تک نہیں چھپ سکتا کیونکہ اس کا عبرتناک انجام بہت قریب ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘