ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی دوڑ، مقدمات میں گھرے ٹرمپ سب سے آگے

ہفتہ 29 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آئندہ برس ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدواروں نے پہلی بار امریکی ریاست آئیووا میں مہم کے ایک پروگرام میں ایک ساتھ شرکت کی ہے۔ مرکزی حریف ڈونلڈ ٹرمپ اور رون ڈی سینٹس ریپبلکن پارٹی کے سالانہ لنکن ڈنر فنڈ کی سرخیوں کی زینت بنے ہیں۔

تقریب کے دوران تمام 13 صدارتی امیدواروں کو بولنے کے لیے 10 منٹ کا وقت دیا گیا۔ رائے عامہ کے اعتبار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنی بڑھتی ہوئی قانونی مشکلات کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریفوں پر برتری رکھتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حاضرین کو بتایا کہ وہ واحد امیدوار ہیں جو اگلے سال کے انتخابات جیت سکتے ہیں اور دعوٰی کیا کہ یہی وہ واحد وجہ ہے کہ انہیں فوجداری اور دیوانی الزامات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اب بھی وائٹ ہاؤس کے لیے انتخاب لڑیں گے، چاہے انہیں سزا ہی کیوں نہ ہو جائے۔ آئیووا کے بڑے ہال میں موجود 12 سو سے زائد بیشتر شرکاء ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ آئندہ ریپبلکن امیدوار کون ہوگا۔

 

بہت سے شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی طور پر کھلا ذہن رکھتے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا ہے، لیکن اس ہجوم میں ٹرمپ کے اسٹکرز کی کوئی کمی نہیں تھی۔

مختلف امیدواروں کو ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھنے کا کوئی مزہ نہیں تھا۔ ان میں سے ہر ایک کا اپنا اسٹیج کے پیچھے کمرہ تھا جہاں سے وہ اپنی دس منٹ کی تقریر کرنے کے لیے باہر نکلتے۔ انہیں درحقیقت ایک دوسرے کو دیکھنے کی بھی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔

وویک راماسوامی نے سماں باندھ دیا اور لوگوں کو کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کرنے پر مجبور بھی۔ ول ہرڈ کی کارکردگی کو جلد فراموش نہیں کیا جائے گا – لیکن تمام غلط وجوہات کی بنا پر۔

سامعین یہ سن کر حقیقی طور پر چونک گئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیل سے باہر رہنے کے لیے صرف صدر کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ چھری کانٹے سے اونچی آواز میں شور نے مزید خطاب کو تقریباً ختم ہی کر دیا – ایک آدمی نے ’گھر جاؤ‘ کا نعرہ بھی بلند کردیا۔

فنڈ اکٹھا کرنے کی یہ تقریب ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خفیہ فائلوں کے مبینہ طور پر غلط طریقے سے کام کرنے پر نئے الزامات عائد کیے جانے کے ایک دن بعد منعقد ہوئی تھی۔

عہدہ چھوڑنے کے بعد سرکاری دستاویزات کو سنبھالنے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف وفاقی استغاثہ نے مجرمانہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے لیے سب سے آگے ہیں۔

فائیو تھرٹی ایٹ کی اوسط رائے شماری کے مطابق، ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کی پسندیدگی کی شرح 52.4 فیصد، فلوریڈا کے گورنر ڈی سینٹیس 15.5 جب کہ باقی تمام امیدوار اس دوڑ میں 10 فیصد سے کم پر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا