‎’پسوڑی گرل‘ شے گل کو آج کل کس پریشر کا سامنا ہے؟

منگل 8 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف پاکستانی گلوکارہ شے گل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی میوزک انڈسٹری میں کچھ نیا اور منفرد کرنا چاہتی ہیں۔ موسیقی شروع کرنے کے بعد 24 سالہ گلوکارہ کو  بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بقول ان کے بہت سے چیلنجز ابھی مزید درپیش ہیں۔

‎بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انوشے بابر گل المعروف شے گل نے بتایا کہ کوک اسٹوڈیو سے ملنے والی  شہرت کے باوجود انہیں ابھی مزید پرفارم کرنا ہے تاکہ وہ میوزک میں اپنا نام بنانے سکیں۔

واضح رہے کہ ان کے گانے کے غیر روایتی اسٹائل نے نامور میوزک پرڈیوسر زلفی کی توجہ حاصل کی جنہوں نے انہیں گلوکار علی سیٹھی کے ساتھ گانے کا موقع فراہم کیا اور یوں پسوڑی جیسا مشہور گانا راتوں رات ان کی مقبولیت کا باعث بن گئی۔

’پسوری نے میرے لیے سب کچھ بدل دیا، میں اب مالی طور پر خود مختار ہوں، اور یہ میرے لیے بہت اچھا ہے۔ یہ کسی بھی لڑکی کے لیے بہت اچھا ہے۔ میرے خیال میں ہر عورت کو مالی طور پر خود مختار ہونا چاہیے۔ میں اب زیادہ خوش ہوں کیونکہ میں بالآخر اپنے فیصلے خود کر سکتی ہوں، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔‘

شے گل کا اگلا مشن ہے اپنا انفرادی گانا ریلیز کرنا۔ جسے ہر لحاظ سے وہ مکمل طور پر خود تیار کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنے اس متوقع انفرادی گانے کی تیاری کا ان پر پریشر بھی بہت ہے۔ ان کے مطابق لوگ انہیں گاہے گاہے باور کراتے رہتے ہیں کہ اب اصلی گانا بنانے کا وقت آگیا ہے۔‘

’میں کہتی ہوں، میں یہ کیسے کروں؟ میں کوشش کر رہی ہوں۔ بہت دباؤ ہے، بہت زیادہ۔ مجھے کسی نہ کسی طرح اس میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر میں بہت زیادہ وقت لگاتی ہوں، تو شاید میں سست ہو جاؤں اور کبھی بھی اپنا گانا ریلیز نہ کر سکوں۔ لہذا تھوڑا دباؤ خوش آئند ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں کہ یہ بہت زیادہ ہو جائے میرے لیے۔‘

‎شے گل کا کہنا تھا کہ وہ قدرتی طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے والی شخصیت ہیں اور ان کا یہ وصف ان کی گائیکی میں بھی جھلکتا ہے۔ ’جو میرا دل کرتا ہے، میں وہ کرتی ہوں اور وہ اپنے کام کے ذریعے میوزک انڈسٹری پر اپنے کام کے نقوش چھوڑنا چاہتی ہوں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟