8 سال بعد سعودی فٹبال کلب ایشیائی چیمپئن شپ کھیلنے ایران جائیں گے

منگل 5 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے سعودی عرب اور ایران کی فٹ بال فیڈریشنز کے درمیان معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اب دونوں ممالک کسی نیوٹرل گراؤنڈ کے بجائے اندرون ملک اور بیرون ملک میچوں میں ایک دوسرے کی میزبانی کریں گے۔ سعودی فٹبال کلبز اور ان کے کھلاڑی جن میں کرسٹیانو رونالڈو، نیمار، کریم بینزیما شامل ہیں، 8 سال کے بعد اس سیزن میں ایشیائی چیمپیئنز لیگ کے میچ کھیلنے کے لیے ایران جائیں گے۔

سعودی عرب اور ایران کے کلبز کے درمیان ہوم اینڈ اوے میچز ہوں گے، کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم النصر 19 ستمبر کو تہران میں پرسیپولیس کلب کے خلاف میچ کھیلے گی، واپسی کا میچ 27 نومبر کو الریاض میں کھیلا جائے گا۔

ایشیائی چیمپئنز لیگ میں آخری مرتبہ  2015 میں سعودی عرب اور ایران کی ٹیمیں اپنے اپنے ملک میں ایک دوسرے کے مدمقابل میدان میں اتری تھیں۔ اس سال مارچ میں چین کی ثالثی میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سفارتی کشیدگی کم ہو رہی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے پچھلے ماہ سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا جوکہ گزشتہ 8 سال میں کسی ایرانی وزیرخارجہ کا اس طرح کا پہلا دورہ تھا۔

2016 میں اے ایف سی کے فیصلے کے بعد دونوں ملکوں کی ٹیموں نے غیرجانبدار مقامات پر میچز کھیلے تھے، دونوں ملکوں کے کلبوں نے چیمپیئنز لیگ میں ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے دبئی اور دوحہ کے اسٹیڈیم استعمال کیے تھے۔

کورونا وبا کے دوران ہونے والے میچز ایرانی ٹیموں نے سعودی عرب میں کھیلے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ صحت کے سخت قوانین کے تحت متعدد ممالک کی ٹیموں کے مابین کھیلوں کے لیے ایک ہی مقام استعمال کیا جانا تھا۔

ایشین چیمپئنز لیگ کی قرعہ اندازی 24 اگست کو ہوئی جس کے تحت 5 میں سے 3 گروپوں میں ایران اور سعودی عرب کے میچ ہوں گے۔ نیمار کی ٹیم الہلال کو 2 اکتوبر کو ایران میں نساجی مازندران کے خلاف میچ کھیلنا ہے۔

بینزیما کی ٹیم الاتحاد کا مقابلہ اسی روز سِپاہان سے ہوگا۔ سعودی عرب میں واپسی کے کھیل 12 دسمبر کو ہوں گے۔ اے ایف سی نے کہا کہ سعودی عرب، ایران اور پورے ایشیا میں پُرجوش شائقین اب کلب اور قومی فٹ بال ٹیم کی سطح پرایک ولولہ انگیز نئے باب کا انتظار کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مردوں کی قومی ٹیم کی سطح پر سعودی عرب اور ایران آخری بار 2012 میں مدمقابل آئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘