لاہور ہائی کورٹ نے 2002 سے پہلے کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا

جمعرات 23 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دو ہزار دو سے پہلے کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرے۔

آج لاہور ہائی کورٹ میں قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ یہ درخواست ایک شہری منیر احمد نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے دائر کی تھی۔ آج سماعت شروع ہوئی تو کابینہ سیکرٹری اعزاز ڈار ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے سن دو ہزار دو سے اب تک توشہ خانہ ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کردیا ہے کہ یہ تحائف کس نے خریدے۔ یہ سارا ریکارڈ ویب سائٹ پر ڈالا جائے گا ، البتہ وہ ریکارڈ نہیں دے رہے ہیں کہ بیرون ملک سے یہ تحائف کس نے دیے ہیں۔

جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ  کیا سن دو ہزار دو سے پہلے کا ریکارڈ آپ کے پاس نہیں ہے ؟ جس پر وفاقی حکومت نے جواب دیا کہ سن دو ہزار دو سے پہلے کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر کابینہ سیکرٹری کو سن دو ہزار دو سے پہلے کا توشہ خانہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

 وفاقی حکومت کے وکیل نے کابینہ کا ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا فیصلہ عدالت میں پیش کیا ، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کو سارا ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ ایک دم سے چیزیں تبدیل نہیں ہوتیں، حکومت نے سن دو ہزار تئیس میں ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے مزید کارروائی تیرہ مارچ تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

’اگر آج نیوٹن زندہ ہوتا تو ن لیگ میں ہوتا‘، حذیفہ رحمان کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی

بیلٹ پیپر پر میرا نام ہوتا تو زبردست کامیابی ملتی‘، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی پر ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ

بھارت: گجرات میں جعلی ڈاکٹروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 افراد کی نشاندہی

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا