سپریم کورٹ: دورانِ سماعت جسٹس مظاہر اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میں تلخ کلامی

بدھ 4 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مظاہرنقوی اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد کے علاقے میں کارحادثے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس مظاہر نے استفسار کیا کہ کیا اس مقدمے میں جج مختلف نوعیت کی درخواستوں پر ایک جامع فیصلہ دےسکتا ہے؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا کہ جج صاحب نے حکم جاری کیا ہے تو ایک جامع فیصلہ دیا جاسکتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے جواب پر جسٹس مظاہر نقوی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آپ کی قابلیت کا معیار ہے؟ آپ کو قانون کا پتا ہی نہیں کہ اس کیس میں ایک فیصلہ ہوسکتا تھا یا نہیں؟

جسٹس مظاہر کی برہمی پر ایڈووکیٹ جنرل نے مکالمہ کیا کہ آپ میری تضحیک کررہے ہیں، میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ہوں،کسی کی وکالت نہیں عدالت کی معاونت کررہا ہوں، آپ میری تضحیک نہیں کرسکتے، جس جج نے فیصلہ دیا اس کی کیا قابلیت ہے؟ جس جج نے فیصلہ دیا کیا آپ اس کےخلاف فیصلہ دیں گے؟

جسٹس مظاہر اور ایڈووکیٹ جنرل کے درمیان تلخ کلامی پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ ہم سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے کار حادثے کا مقدمہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجوا دیا۔

اس کیس میں ٹرائل کورٹ نے ملزم کو ایک سال قید کی سزا سنائی جسے اس نے چیلنج کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان

یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم

آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

آزاد کشمیر میں ریاست مخالف ایجنڈا نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی، خواجہ آصف نے ایکشن کمیٹی پر واضح کردیا

ویڈیو

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟