کیا شاہ اللہ دتہ کے غار قدرتی نہیں؟

جمعرات 7 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ مقام قدیم تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ جہاں اونچے درخت اور چاروں جانب سبزہ ہے۔ اس گاؤں کا نام مغل دور کے شاہ اللہ دتہ کے نام پر ہے۔ پُر فضا مقام پر قدیم غاروں کے ساتھ برگد کے سایہ دار درخت ماحول کو مزید خوشگوار بناتے ہیں۔
اس مقام کی مذہبی اہمیت ہندو، بدھ مت، جین مت، سکھ اور مسلمانوں سب کے لیے مختلف ادوار میں یکساں رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو کہنا ہے کہ یہ غار قدرتی نہیں بلکہ ان غاروں کو خود بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ اللہ دتہ کے غاروں کی دیکھ بھال کرنے والے اسماعیل عباسی نے بتایا کہ ان کا خاندان یہاں 2 سے 3 سو سال سے آباد ہے۔ ان کے مطابق یہ قدرتی غار ہیں جو ہمیشہ سے یہاں موجود ہیں، البتہ ان غاروں کے آگے دیواریں تھیں جنہیں ختم کیا گیا اور ان غاروں کو برقرار رکھا گیا ہے، کیونکہ اس جگہ کی اہمیت ہر کوئی جانتا ہے۔
اسماعیل عباسی کے مطابق دنیا بھر سے لوگ اس مقام کو دیکھنے آتے ہیں۔چونکہ یہ ایک اہم تاریخی اورسیاحتی مقام ہے، اور یہاں سیاحوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے، اس لیے اسے عالمی توجہ کا مرکز بنایا جا سکتا ہے، اور یوں کروڑوں روپے کمائے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں سمندری طوفان ارنب کا خطرہ، ایک لاکھ افراد کے انخلا کے احکامات

بوٹوکس سے بشریٰ انصاری کا چہرہ کیسے متاثر ہوا؟ اداکارہ کا چونکا دینے والا انکشاف

فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں