“کیا آپ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے اس عمل کی تائید کرتے ہیں جو انہوں نے پاکستان کے قوانین کو قرآن حکیم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اسلامی احکامات سے ہم آہنگ کرنے اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لئے شروع کیا ہے اور کیا آپ اس عمل کو جاری رکھنے، مزید استوار کرنے اور منتظم اور پر امن قتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔”
یہ وہ سوال تھا جو آج ہی کے دن 1984ء میں پاکستانی عوام کو درپیش تھا اور جس کا جواب انہیں ہاں یا نہیں میں دینا تھا۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ یکم دسمبر 1984 ء کو اقتدار پر قابض فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے ملک میں اچانک ریفرنڈم کروانے کا اعلان کیا۔ اقتدار کے حصول کے لئے کچھ بھی کر جانے والے اس شخص نے کہا کہ 19 دسمبر کو خود ان پر اور ان کی پالیسیوں پر اعتماد کے لئے ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام ریفرنڈم منعقد ہوگا۔
فوجی آمر نے اعلان کیا کہ اس سوال پر عوام کی ہاں کا مطلب موجودہ حکومت پر اعتماد، اس کی پالیسیوں کی تائید اور جنرل ضیاء الحق کو آئندہ 5 سال کے لئے ملک کا صدر منتخب کرنا ہوگا۔ یہ مدت اس دن سے شروع ہوگی جس دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا۔
یہ ریفرنڈم کم اور تماشا زیادہ تھا اور ایم آرڈی کی جماعتوں نے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کر رکھی تھی ۔ ریفرنڈم والے دن ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنوں پر سناٹا چھایا ہوا تھا مگر جب نتیجہ آیا تو صدر ضیاء الحق بھاری اکثریت سے کامیاب ہو چکے تھے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ایس اے نصرت کے مطابق ریفرنڈم میں 62 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا تھا، جن میں سے 98 فیصد افراد نے صدر ضیاء کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
ریفرنڈم کے بعد جنرل ضیاء الحق نے فوری اعلان کر دیا کہ عوام نے انہیں 5 سال کے لئے صدر منتخب کر لیا ہے اور آئین میں ترامیم کرنے کا حق بھی دے دیا ہے۔ یہ عجیب اور انوکھا انداز جسے ریفرنڈم کا نام دیا گیا ، شہروں اور گلی کوچوں میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ۔
اسی لیے حبیب جالب نے لکھا:
شہر میں ہو کا عالم تھا
جن تھا یا ریفرنڈم تھا
آج انسانی یکجہتی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
1997ء میں مشہور زمانہ فلم ‘ٹائٹینک’ ریلیز ہوئی۔ یہ 12 سالوں میں سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم تھی۔ پھر ‘اوتار’ نے سب سے زیادہ بزنس کر کہ اس فلم کا ریکارڈ توڑا تھا۔
سال 2003ءمیں لیبیا نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ترک کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کیا۔
19 دسمبر 1972ء کو صدر ذوالفقار بھٹو نے اپنی کابینہ کے ساتھ راجہ تری دیو رائے کا پرتپاک استقبال کیا ۔ وہ چکما قبیلے کے راجہ تھے جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان میں رہنے کے لیے اپنی ماں، زیر ملکیت ریاست، بیوی، بچے اور رشتہ دار چھوڑ دیے مگر بنگلہ دیش نہیں گئے۔
سال 1984ء میں نیوزی لینڈ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران جاوید میاں داد نے 1000ویں ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں 100 رنز بنائے۔














