ایران، امریکا اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں 6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی پر خدشات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
گزشتہ روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی۔
امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.44 ڈالر، یعنی 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اس سے قبل بدھ کے روز اس کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
Oil prices rose to their highest in almost six weeks on concerns about disruptions to Middle Eastern supply routes because of escalating hostilities between the US and Iran and threats to shipping by the Iran-backed Houthi militia in Yemen https://t.co/ruN2m3vz7N pic.twitter.com/NfBJk2UHE6
— Reuters (@Reuters) July 22, 2026
امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل 12ویں رات بھی حملے کیے، یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر ایرانی حملے کی صورت میں امریکا ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائے گا۔
اس بیان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں سے متاثرہ راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک تیل بردار جہاز دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ 2 دیگر آئل ٹینکر واپس لوٹ گئے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز ان کے مکمل کنٹرول میں ہے اور جب تک خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، یہ راستہ مؤثر طور پر بند رہے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران سے رابطے اور اجازت کے بغیر کسی بھی تیل بردار جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے بھی بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔

حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحری سلامتی سے متعلق رپورٹس کے مطابق سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا ہے۔
حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے تقریباً 10 بحری جہازوں کو خبردار کرکے سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے سے روک دیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیاں عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں کمی، خام تیل کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سامنے آیا، جبکہ ماہرین نے اس کے برعکس 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔













