کیوی کپتان پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے باہر ہو گئے

پیر 15 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن پاکستان کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کے سیریز میں مزید حصہ لینے کا امکان نہیں ہے۔

عرب نیوز کے مطابق کین ولیمسن بدھ (17 جنوری) کو ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں 3 ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، نیوزی لینڈ کے کوچ گرے اسٹیڈ نے کہا کہ ان کے اسٹار بلے باز ممکنہ طور پر آخری 2 ٹی ٹوئنٹی میچوں سے بھی باہر رہیں گے۔

اسٹیڈ نے کہا کہ ٹیسٹ میچز بہت قریب ہیں اور ہماری ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ولیمسن ٹیسٹ سیریز کے لیے دستیاب ہوں۔

نیوزی لینڈ کو 5 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل ہے۔ ولیمسن نے 15 گیندوں پر 26 رنز کی اننگز کھیلی جس کے بعد اتوار کو کھیلے گئے دوسرے میچ میں ان کی ٹیم نے 21 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

امکان ہے کہ ٹم سیفرٹ بیٹنگ لائن میں ولیمسن کی جگہ لیں گے جبکہ اسٹیڈ نے اشارہ دیا ہے کہ سیریز کے کسی مرحلے پر ٹم سیفرٹ پہلے ہی ڈیون کونوے کی جگہ وکٹ کیپر کے طور پر کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟